سپیکر پنجاب اسمبلی صوبائی حکومت کے سخت قانون کے بل سے لاعلم نکلے


لاہور(قدرت روزنامہ)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے “پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل 2026ء” کے ایوان میں پیش کیے جانے پر شدید حیرت اور لاعلمی کا اظہار کیا ہے، سپیکر نے بل کے مندرجات اور اسے پیش کرنے کے طریقہ کار پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی سیکریٹریٹ اور متعلقہ حکام کے خلاف سخت ایکشن لینے کا عندیہ دے دیا۔
اطلاعات کے مطابق سپیکر ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن اراکین کی نشاندہی پر سیکریٹریٹ حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب یہ اہم ترین بل ایوان کی میز پر لایا جا رہا تھا، تو اس وقت “پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل 2026ء” کے بارے میں انہیں اندھیرے میں کیوں رکھا گیا اور باقاعدہ بریف کیوں نہیں کیا گیا؟ اس اہم قانون سازی پر ان سے لاعلمی برتنے یا حقائق چھپانے کے معاملے پر وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے، بلکہ اس غفلت پر ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی و آئینی ایکشن لیا جائے گا۔
بل کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ انگریز دور کے نوآبادیاتی نظام کے ایسے قوانین کو موجودہ دور میں نافذ کرنا کسی صورت ممکن نہیں ہے، ایسے قوانین جو شہریوں کی آزادی یا بنیادی حقوق پر قدغن لگاتے ہوں یا جن کی جڑیں غلامی کے دور سے ملتی ہوں، انہیں بغیر تفصیلی بحث اور جانچ پڑتال کے ایوان سے منظور نہیں کرایا جا سکتا۔
واضح رہے کہ “ہیبیچوئل آفینڈرز بل” عام طور پر ایسے جرائم پیشہ افراد کی کڑی نگرانی اور ان پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے لایا جاتا ہے جو بار بار جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، تاہم اس بل کی بعض شقوں کو ماضی کے کالے قوانین سے تشبیہ دی جا رہی ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی کے اس سخت مؤقف کے بعد اسمبلی میں اس بل پر جاری کارروائی اور بل کی منظوری کھٹائی میں پڑ چکی ہے۔

WhatsApp
Get Alert