عوامی وسائل کا درست استعمال حکومتی زمہ داری ہے اور اسے قابل احتساب انداز میں انجام دیا جائے گا، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ، ایس ایم بی آر کمبر دشتی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، تمام محکموں کے سیکرٹریز، کمشنرز اور متعلقہ آفیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، ٹینڈرز کے عمل کی شفافیت، نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے خالی آسامیوں پر تقرریوں سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی مزید بہتر بنانے، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور شفافیت کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کا درست استعمال حکومتی زمہ داری ہے اور اسے قابل احتساب انداز میں انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری محکموں میں ناقابل استعمال گاڑیوں کی فہرست تیار کی جائے اور قومی قوانین اور ضوابط کے مطابق شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک 300 گاڑیوں کی نیلامی کا عمل جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ٹینڈرز کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور سنگل بڈرز کی صورت میں ٹینڈرز کو مسترد کیا جائے اور کھلی مقابلے کو فروغ دیا جائے تاکہ ٹرانسپیرنسی قائم رہے۔ انہوں نے صوبے میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خالی تقرریاں فوری طور پر پْر کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کے اصولوں کے تحت تقرریاں شفاف طریقے سے عمل میں لائی جائیں اور بلا تعطل خالی آسامیوں کی نشاندہی کر کے اضلاع کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر بھرتیاں کی جائیں۔ خاص طور پر صحت، تعلیم اور منصوبہ بندی کے محکموں میں خالی آسامیوں کو ترجیح دی جائے تاکہ بنیادی خدمات میں بہتری آئے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار میسر آئے۔ اجلاس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیتی ہوئے بتایا گیا کہ مالی سال 27-2026 میں 5618 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن میں 3761 جاری اور 1857 نئے ترقیاتی منصوبے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے ٹائم لائنز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، رکاوٹوں کی فوری نشاندہی اور ازالہ کیا جائے تاکہ عوامی فوائد بروقت حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے مکمل ہونے والے منصوبے عوامی اعتماد متاثر کرتے ہیں اور اضافی لاگت کا سبب بنتے ہیں، اس لیے اثر انگیز مانیٹرنگ اور بروقت رپورٹس لازمی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ موثر بجٹ مینجمنٹ سے منصوبوں کی بر وقت تکمیل ممکن ہوگی اور قیمتی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے گا۔
