’عمران خان 3 بجے اٹھ کر دفتر آتا تھا، کام اس نے خاک کرنا تھا‘
شہبازشریف صبح 7 بجے میٹنگ کررہے ہوتے ہیں، سائٹس کے وزٹ کرتے ہیں، ایسے کام ہوتا ہے؛ صحافی محسن ببر کا دعویٰ

لاہور(قدرت روزنامہ)صحافی اور تجزیہ کار محسن ببر نے ملک کی سابقہ اور موجودہ قیادت کے طرزِ حکمرانی یعنی گورننس ماڈل کا موازنہ کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے جبکہ ان کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی وقت کی پابندی اور سخت محنت کی تعریف کی گئی۔ اس حوالے سے گفتگو کے دوران صحافی محسن ببر نے عمران خان کے دورِ حکومت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس ملک میں تباہی مچائی اور ان کی گورننس کا طریقہ کار انتہائی غیر سنجیدہ تھا، عمران خان دوپہر تین بجے سو کر اٹھتے تھے اور تین بجے تو وہ اپنے دفتر تشریف لاتے تھے، انہوں نے ملک کا کام خاک کرنا تھا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان ساری رات سوتے تھے اور دن میں اپنے گھے سے دفتر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے جاتے تھے، انہوں نے اپنے پورے دور میں دفتر کو روزانہ بمشکل 2 سے 3 گھنٹے دیئے، اور یہ بھی ان کی گورننس کا ایک الگ ہی ماڈل تھا۔
اس کے برعکس موجودہ وزیرِ اعظم کی تعریف کرتے ہوئے محسن ببر نے کہا کہ شہباز شریف کا گورننس ماڈل بالکل مختلف ہے، وہ صبح سات بجے اٹھ کر اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور سوا سات بجے وہ باقاعدہ آفیشل میٹنگز کر رہے ہوتے ہیں، تمام سیکریٹریز صبح سویرے اپنی ٹائیاں سیدھی کرتے اور فائلیں پکڑے بھاگتے ہوئے ان کے پاس پہنچتے ہیں، وہ خود مختلف سائٹس کے دورے کرتے ہیں، اور اصل میں کام کرنے کا طریقہ یہی ہوتا ہے۔
صحافی نے اپنے تجزیے میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ بھی صبح جلدی اٹھ کر اپنے دفتری امور سنبھال لیتے ہیں اور وقت پر ہر جگہ پہنچتے ہیں، یہ تمام چیزیں ملک کی بہتری کے لیے انتہائی مثبت اور ضروری ہیں۔
