ایران کی فوجی صلاحیتیں“سرخ لکیر” اور ناقابلِ مذاکرات ہیں: ایرانی وزیرِ دفاع

ایران(قدرت روزنامہ)ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک کی فوجی صلاحیتیں ایک “سرخ لکیر” ہیں اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع ماجد ابن الرضا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ہماری قومی سلامتی کے لیے سرخ لکیر ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “یہ صلاحیتیں نہ اب قابلِ مذاکرات ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ہوں گی۔”
ماجد ابن الرضا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے “میزائل اور ڈرون پروگرام مزید ترقی کرتے رہیں گے۔”
خیال کیا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران ایران نے ہزاروں ڈرونز استعمال کیے، جو اس نے خلیجی ہمسایہ ممالک کی جانب داغے۔ یہ بغیر پائلٹ طیارے ایران کے لیے بڑی تعداد میں تیار کرنا نسبتاً سستا ہے اور جب انہیں بڑی تعداد میں استعمال کیا جائے تو یہ فضائی دفاعی نظاموں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔
ان ڈرونز کو مار گرانا بھی مہنگا ثابت ہوا ہے، کیونکہ امریکا کو ایک ڈرون گرانے کے لیے ای