تنخواہوں میں اضافہ اور بونس ایک ساتھ!‌ ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) ملازمین کے لئے تنخواہوں میں اضافے اور بونس کا اعلان کردیا گیا ، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے 4.49 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے پاور سیکٹر کی نااہلی اور گورننس کے سنگین مسائل کے باوجود نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافے، کارکردگی انکریمنٹس اور بھاری بونسز کی منظوری دے دی۔
نیپرا نے مالیاتی سال 26-2025 کے لیے مارکیٹ آپریشن فیس کے فیصلے میں جہاں ملازمین کو نوازا ہے، وہیں کمپنی کی جانب سے مانگے گئے کئی فضول اخراجات کو یکسر مسترد یا انتہائی کم کر دیا ہے۔
نیپرا کے فیصلے کے تحت سی پی پی اے جی ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے 4.49 فیصد اضافہ اور کارکردگی کی بنیاد پر 6 فیصد انکریمنٹ کی منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی اضافہ 10.49 فیصد بنتا ہے۔
ریگولیٹر نے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 1 ارب 58 کروڑ روپے اور مراعات کے لیے 24 کروڑ 90 لاکھ روپے کے بجٹ کی منظوری دی ۔
اس کے علاوہ کمپنی نے ملازمین کے بونس کے لیے 19 کروڑ 90 لاکھ روپے مانگے تھے، تاہم نیپرا نے اسے کم کر کے صرف ایک بنیادی تنخواہ یعنی 5 کروڑ 56 لاکھ روپے دینے کی اجازت دی ہے۔
کمپنی کی جانب سے درجنوں نئی بھرتیوں کا پلان بھی جزوی طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ نیپرا نے پہلے سے ہائر کیے گئے 26 ملازمین کے لیے 10 کروڑ 97 لاکھ روپے کی منظوری دی، جبکہ مستقبل کی کسی بھی نئی بھرتی کو الگ سے منظوری سے مشروط کر دیا۔
اس کے ساتھ اسٹاف ٹریننگ کے لیے مانگے گئے 3 کروڑ 20 لاکھ روپے کے بجائے صرف 85 لاکھ روپے منظور کیے گئے جبکہ ہیڈ ہنٹنگ فرمز، کنسلٹنٹس اور معاوضہ سروے کے مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کی درخواستیں یکسر مسترد کر دی گئیں۔
ریگولیٹر نے کمپنی کے انتظامی اخراجات کو 31 کروڑ 60 لاکھ روپے سے کم کر کے 27 کروڑ 11 لاکھ روپے کر دیا، جس میں کمیونیکیشن، آڈٹ فیس اور انشورنس کے اخراجات شامل ہیں۔
اسی طرح آئی ٹی سروسز اور گاڑیوں کی مرمت کے لیے مانگے گئے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے کے بجٹ کو بھی کاٹ کر 13 کروڑ 70 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
نیپرا نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بجلی بحران کے اس دور میں صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

WhatsApp
Get Alert