تاجر ہاشم نورزئی قتل کیس میں 3 سابق شراکت دار گرفتار؛ قتل کے بعد احتجاج میں بھی شریک رہے ؟ تنازعہ کیا تھا ؟ تفصیلات نے حیران کردیا

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں ایک ہفتہ قبل مقامی تاجر ہاشم نورزئی کے قتل میں ملوث تین مبینہ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ،پولیس ذرائع کے مطابق مقامی تاجر اور ہوٹل مالک محمد ہاشم نورزئی کو 27 جون کی صبح بلیلی کے قریب گاڑی سوار نامعلوم افراد نے قتل کردیا گیا تھا۔ صوبائی حکومت نے یہ کیس سیریس کرائم انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کیا تھا ، سیریس کرائم انویسٹیگیشن ونگ ایک ہفتے کی جدوجہد کے بعد ہاشم نورزئی کے قتل میں ملوث تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔گرفتار تینوں مبینہ ملزمان سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ کے رہائشی ہیں۔ پولیس نے مقامی تاجر کے قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ لین دین کے معاملے پر تاجر کو قتل کیا گیا ۔ دوسری جانب نجی نیوز ویب سائٹ اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں گزشتہ ہفتے قتل ہونے والے معروف ریسٹورنٹ مالک محمد ہاشم نورزئی کے کیس میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان مقتول کے سابق شراکت دار ہیں اور ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ قتل کی وجہ فریقین کے درمیان مالی لین دین کا پرانا تنازع تھا۔
محمد ہاشم نورزئی کو گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں اس وقت فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی سفید رنگ کی ویگو گاڑی میں کچلاک سے کوئٹہ کی جانب آ رہے تھے۔
واقعے کے بعد مقتول کے اہل خانہ، قبیلے کے افراد، تاجروں، سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
کوئٹہ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ گرفتار ملزمان مقتول کے قریبی جاننے والے اور دوست تھے جو نہ صرف ان کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے بلکہ مقتول کے گھر جا کر فاتحہ خوانی میں بھی حصہ لیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شبہ نہ ہونے دیں۔
پولیس افسر کے مطابق واقعے کے بعد تفتیشی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جس کے نتیجے میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ملزمان نے جرم سے انکار کیا تاہم ڈیجیٹل شواہد سامنے رکھے جانے پر انہوں نے قتل کا اعتراف کر لیا۔
پولیس افسر کے مطابق ملزمان کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ واردات میں استعمال ہونے والی کالے رنگ کی ویگو گاڑی بھی سیٹلائٹ ٹاؤن سے نکلی تھی۔
ملزمان نے کارروائی کے دوران گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کر دی تھی تاکہ شناخت چھپائی جا سکے جبکہ واردات کے بعد گاڑی شہر سے باہر منتقل کر دی گئی جس کی برآمدگی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے۔
واقعے کے بعد سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا گیا تھا کہ کالے رنگ کی ویگو میں سوار ملزمان نے پہلے مقتول کی گاڑی کا تعاقب کیا پھر اس کے آگے جا کر چلتی گاڑی سے فائرنگ کی۔
جب مقتول کی گاڑی رک گئی تو حملہ آور نے گاڑی قریب لے جا کر مزید گولیاں چلائیں اور صرف 25 سیکنڈ کے اندر واردات انجام دے کر کوئٹہ کی جانب فرار ہو گئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ واردات کے بعد ملزمان کی گاڑی سیٹلائٹ ٹاؤن پہنچی جہاں اسے ایک گھر میں پارک کیا گیا۔
اسی سراغ کی بنیاد پر پولیس نے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے قتل سے قبل محمد ہاشم نورزئی کی باقاعدہ ریکی بھی کی تھی۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان ماضی میں مقتول کے کاروباری شراکت دار رہے تھے تاہم بعد میں مالی لین دین پر تنازع پیدا ہو گیا۔
اگرچہ ایک مرحلے پر معاملہ وقتی طور پر طے پا گیا تھا لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات موجود تھے۔
محمد ہاشم نورزئی کوئٹہ کے معروف تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایئرپورٹ روڈ پر ’کابل جان‘ کے نام سے ریسٹورنٹ قائم کیا تھا جو مختصر عرصے میں شہر کے معروف ریسٹورنٹس میں شمار ہونے لگا۔
