غیرملکی متاثرہ خواتین کیس: زیرحراست ملزمان کو کوئی پروٹوکول نہیں دیا جارہا
ملزمان عام قیدیوں کی طرح حوالات میں بند ہیں، زیر حراست ملزمان کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور میں رضا ڈار اور متاثرہ خواتین کیس سے متعلق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے کہا کہ زیرحراست ملزمان کو کوئی پروٹوکول نہیں دیا جارہا، ملزمان پہلے روز سے آج تک عام قیدیوں کی طرح حوالات میں بند ہیں، زیر حراست ملزمان کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کے مطابق لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ ریپ کیس میں نامزد ملزم’باس‘ پکڑا گیا۔ پولیس نے زیرحراست ملزمان اور خواتین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے فرانزک لیب بھیج دیے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نےخواتین سے اپنے ڈیجیٹل والٹ میں انیس ہزار ڈالر ٹرانسفر کروائے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے خواتین کے ساتھ کرپٹومیں چار سے پانچ لاکھ ڈالر انویسٹ کیے ہوئے تھے، گرفتار ملزموں کے موبائل فون بھی فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
یاد رہے لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغواء اور مبینہ جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں اب تک کئی ہولناک انکشافات ہوئے ہیں، لیکن اس دوران سامنے آنے والے ایک پراسرار کردار نے اس پورے کیس کو کسی فلم کی طرح سنسنی خیز بنا دیا ہے، یہ کردار کوئی اور نہیں بلکہ وہ پردہ نشین ’باس BOSS‘ ہے، جس کا اشارہ ملتے ہی یہ پورا کھیل شروع ہوا اور جس کی مرضی کے بغیر گینگ کا کوئیارندہ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ہسپانوی خاتون آسٹرڈ روبنس اور ان کی ساتھی سٹیفنی کے حلفیہ بیانات میں ایک ایسے شخص کا بار بار ذکر آیا ہے جو اس پورے گینگ کو چلا رہا تھا، جب خواتین کو حبسِ بے جا میں رکھ کر برہنہ کیا جا رہا تھا اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے پاسورڈ مانگے جا رہے تھے تو موقع پر موجود کارندے مسلسل فون پر کسی سے ہدایات لے رہے تھے اور اسے ‘باس’ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے، یہ ‘باس’ کون ہے؟ اس کیس میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کیلئے یہ کردار اب تک معمہ بنا ہوا ہے۔
متاثرہ خواتین کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ کمرے میں موجود ایک ملزم انتہائی روانی سے انگلش بول رہا تھا، جس نے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے پیسے یا پاسورڈ نہ دیئے تو وہ یہاں سے زندہ نہیں جا سکتیں، اب سوال یہ ہے کہ کہیں یہی تو باس نہیں؟ خواتین کے بیانات کی روشنی میں یہ شخص جب وہاں سے چلا گیا تو رضا ڈار کے کمرے میں آنے اور سبز بیگ پر قبضہ کرنے کے بعد بھی فون کالز کا سلسلہ جاری رہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ باس ہر لمحے کی لائیو اپڈیٹ لے رہا تھا۔
بیان سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ جب کالے کپڑوں میں ملبوس شخص نے خاتون کو دوسری منزل پر لے جا کر برہنہ کیا اور بڑی عمر کا شخص رائفل تان کر کھڑا ہوا، تو ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کسی کے ملازم ہیں اور دی گئی ڈیوٹی پوری کر رہے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تفتیشی ادارے اس پوشیدہ کردار کا اصل چہرہ بے نقاب کر پائیں گے؟ یا نائب وزیرِ اعظم کے خاندان کے گرد گھومتے اس ہائی پروفائل کیس میں اس ’باس‘ کا نام ہمیشہ کے لیے فائلوں میں ہی دب کر رہ جائے گا؟ یہ سسپنس آنے والے دنوں میں تفتیش مکمل ہونے پر ہی ختم ہو سکے گا۔
