رضا ڈار کیس: اگرعدالت میں جرم ثابت ہوجاتا ہے تو سزا کیلئے کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوسکتی
مریم نوازہمیشہ کہتی ہیں کہ قانون سب کیلئے برابر ہے،غیرجانبدار شفاف انکوائری کا عمل جاری ہے،ہمیں فوری جج جیوری نہیں بن جانا چاہیئے۔وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ رضا ڈار کیس میں اگرعدالت میں جرم ثابت ہوجاتا ہے تو سزا کیلئے کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوسکتی، مریم نوازہمیشہ کہتی ہیں کہ قانون سب کیلئے برابر ہے، غیرجانبدار شفاف انکوائری کا عمل جاری ہے،ہمیں فوری جج جیوری نہیں بن جانا چاہیئے۔
اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس کے مختلف زاویے ہیں، بروقت ایف آئی آر درج ہوئی، ملزمان پکڑے گئے، متاثرہ خواتین کو بازیاب کرایا گیا، بہت سنگین نوعیت کے الزامات ہیں ، جب کوئی کیس حساس ہوتا ہے تو میڈیا اقدار یہی ڈیمانڈ کرتی ہیں ،
وفاقی وزیر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ متاثرین کا 164 کا بیان بھی ہوگیا، میڈیکل بھی ہوگیا، ملزمان بھی پکڑے گئے۔
جو لوگ پکڑے گئے بالکل ان کا نام لیں۔ اس کیس پر بے تحاشا قسم کے وی لاگ ہوچکے، خواتین کی تصاویر بھی سوشل میڈیا ڈال دی گئیں، ان چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں فوری جج جیوری نہیں بن جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان کا امیج کی بات آجاتی وہاں کمپرومائز نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس بھی آئی اور جو واضح نظر آیا، غیرجانبدار شفاف انکوائری کا عمل جاری ہے، کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے،
مریم نواز ہمیشہ کہتی ہیں کہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر کسی نے جرم کیا ہے اور جرم ثابت ہوجاتا ہے، اور عدالت سزا دیتی ہے تو پھر کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہوسکتی، کیس میں میڈیکل ہوچکا ہے، اگر شناخت پریڈ کی ضرورت تو ہوگی، لیکن میں کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنے یا قیاس آرائی سے اجتناب کروں گا۔
