کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت میونسپل کارپوریشن کی املاک کا اہم جائزہ اجلاس
دکانوں اور کھوکھے مالکان کو سہولت دینے کے لیے بقایاجات کی قسطوں میں ادائیگی کا شیڈول مرتب کرنے کی ہدایت غیر قانونی تھڑے ختم کرائے جائیں، سرکاری املاک کا استعمال قواعد کے مطابق یقینی بنایا جائے، کمشنر کوئٹہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام دکانوں اور کھوکوں کے کرایوں، بقایاجات اور دیگر متعلقہ مسائل کے حل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی،ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ ،اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ ریونیو کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ ،انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ کے علاوہ میٹروپولیٹین کارپوریشن کے آفسران نے شرکت کی۔اجلاس میں میٹروپولیٹین کارپوریشن کی املاک سے متعلق مکمل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کارپوریشن کے زیر انتظام تقریباً 90 کھوکے موجود ہیں، جن میں سے 42 کھوکہ مالکان نے اپنے کرائے اور واجبات جمع کروانے شروع کر دیے ہیں جبکہ باقی کرایہ داروں کے ذمے 2021 سے اب تک کے بقایاجات بھی واجب الادا ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے متعین کردہ کرایہ ہر صورت باقاعدگی سے ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کرایہ داروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بقایاجات کی ادائیگی ایک ہی مرتبہ لینے کے بجائے قسطوں میں وصول کرنے کی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے، تاکہ وہ آسانی سے اپنے واجبات ادا کر سکیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ معاہدے کے مطابق کرایے کی ادائیگی لازمی ہے اور معاہدے کی شق کے تحت سالانہ 10 فیصد کرایہ اضافہ بھی نافذ العمل رہے گا۔کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ تمام دکانداروں اور کھوکھے والوں کو ایک ہفتے کے اندر ایسا قابلِ عمل شیڈول مرتب کرنا ہوگا جس کے تحت نہ صرف ماہانہ کرایہ باقاعدگی سے جمع کرایا جائے بلکہ بقایاجات بھی قسطوں کے ذریعے ادا کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ متعدد کھوکوں کے سامنے غیرقانونی تھڑے قائم کرکے کاروبار کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض کھوکہ مالکان ان تھڑوں کو دوسروں کے حوالے کرکے کرایہ بھی وصول کرتے ہیں۔ کمشنر نے اس عمل کو قواعد و ضوابط کے منافی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے تمام غیرقانونی تھڑے ختم کرائے جائیں اور سرکاری املاک کا استعمال صرف مقررہ قواعد کے مطابق یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں کہا گیا کی میٹروپولیٹین کارپوریشن کی دکانوں اور کھوکوں کے کرایوں کی باقاعدہ وصولی، بقایاجات کی ادائیگی اور سرکاری املاک کے شفاف انتظام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
