امن کی علامت زیارت بدانتظامی اور نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا، ؛ سیاح تو درکنار، مقامی شہری بھی اپنے گھروں، کھیتوں اور علاقوں تک محفوظ طریقے سے پہنچنے سے محروم ہیں۔ مولانا عبدالواسع


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، صوبائی نائب امیر مولانا سرور ندیم، صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی نواز خان کاکڑ، ضلعی امیر مولانا نورالحق، جمعیت علماء اسلام ضلع زیارت کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری و مہتمم جامعہ دارالعلوم بحرالعلوم زیارت مولانا حافظ خلیل احمد، صاحبزادہ محب اللہ، حاجی جمعہ خان دمڑ، مولوی نقیب اللہ اور دیگر قائدین و علمائے کرام نے جامعہ دارالعلوم بحرالعلوم زیارت میں منعقدہ سالانہ دستارِ فضیلت و دستارِ حفظ کانفرنس میں شرکت کی۔صوبائی امیر حضرت مولانا عبدالواسع اور دیگر معزز مہمانوں کی زیارت آمد پر اسپیزندی کے مقام سے کارکنان، علماء کرام، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے ایک عظیم الشان استقبالی جلوس کی صورت میں والہانہ استقبال کیا۔ شرکاء نے نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور جمعیت علماء اسلام کے فلک شگاف نعروں سے فضا کو گرما دیا۔ پنڈال پہنچنے پر ہزاروں شرکاء نے اپنے قائدین کا پْرجوش استقبال کیا، جبکہ کانفرنس میں ضلع زیارت سمیت مختلف اضلاع سے عوام، علمائ، حفاظ، طلبہ اور عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اپنے صدارتی خطاب میں صوبائی امیر سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع نے بلوچستان خصوصاً ضلع زیارت اور ہرنائی کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیارت کبھی بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں امن، سکون اور سیاحت کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سیاح تو درکنار، مقامی شہری بھی اپنے گھروں، کھیتوں اور علاقوں تک محفوظ طریقے سے پہنچنے سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال حکومت کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے جس نے عوام کو شدید اضطراب اور بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے بھی ماضی میں حکومتیں کیں، مگر ہماری قیادت کی اصل پہچان اقتدار نہیں بلکہ کردار، دیانت، سادگی اور عوامی خدمت ہے۔ آج ہمارے اکابر اگر دنیا میں موجود نہیں تو ان کی امانت، اخلاص، بے لوث خدمات اور سادہ طرزِ زندگی آج بھی زندہ مثال ہیں، جبکہ ان کے خاندان آج بھی اسی سادگی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف آج ضلع زیارت، جو کبھی ترقی، خوشحالی اور امن کی علامت تھا، بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور عوام سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ اس ضلع کو آخر کس کی نظر لگ گئی۔حضرت مولانا عبدالواسع نے دینی مدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارسِ دینیہ اسلام کے مضبوط قلعے، علم و ہدایت کے سرچشمے اور معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت کے حقیقی مراکز ہیں۔ جامعہ بحرالعلوم زیارت بلوچستان کا ایک عظیم علمی ادارہ ہے جس نے ہزاروں علمائ￿ اور حفاظ پیدا کیے، جو آج ملک و ملت اور دین اسلام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ حضرت مولانا جان محمد?، ان کے رفقائ￿ ، اساتذہ اور موجودہ منتظمین کے لیے صدقہ جاریہ ہے، اور اللہ تعالیٰ دین کی عظیم خدمت کے لیے اپنے خاص بندوں کا انتخاب فرماتا ہے۔انہوں نے اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر پوری کانفرنس کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں دینی مدارس کا نظام مزید مضبوط اور مؤثر ہوگا۔صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے خطاب میں جامعہ بحرالعلوم، حضرت مولانا جان محمد، حضرت مولانا صدیق اور دیگر اکابر کی دینی، تعلیمی اور تنظیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور مدارسِ دینیہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جمعیت علماء اسلام ہر دور میں مدارس کے تحفظ، آزادی اور استحکام کے لیے عملی کردار ادا کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔صوبائی نائب امیر مولانا سرور ندیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارسِ دینیہ امت مسلمہ کی نظریاتی، اخلاقی اور روحانی بنیادوں کے محافظ ہیں۔ انہی اداروں نے ہر دور میں دین اسلام کی آبیاری کی، عقیدہ و نظریات کی حفاظت کی اور معاشرے کو باکردار قیادت فراہم کی۔صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں جامعہ بحرالعلوم زیارت کی علمی و دینی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا جان محمد، ان کے بعد حضرت مولانا عبدالصمد اخوندزادہ? اور موجودہ منتظمین نے دین اسلام، دینی تعلیم اور جمعیت علماء اسلام کے فروغ کے لیے جو تاریخی خدمات انجام دی ہیں، وہ ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ ایسے ادارے اور شخصیات دراصل قوم کی فکری، دینی اور اخلاقی اساس ہیں جن پر پورا بلوچستان فخر کرتا ہے۔کانفرنس کے اختتام پر صوبائی امیر حضرت مولانا عبدالواسع، مولانا آغا محمود شاہ اور دیگر جید علماء کرام نے فارغ التحصیل علماء اور حفاظِ کرام کی دستاربندی کی، ان کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور انہیں دین اسلام کی خدمت، اعتدال، اخلاص اور تقویٰ کو اپنی زندگی کا شعار بنانے کی تلقین کی۔بعد ازاں کانفرنس میں شریک ہزاروں مہمانوں، علماء کرام، طلبہ اور عوام کے اعزاز میں پرتکلف طعام کا اہتمام کیا گیا، جس میں شرکاء نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس دعا پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں ملک میں امن و استحکام، بلوچستان کی خوشحالی، دینی مدارس کی ترقی، امت مسلمہ کے اتحاد اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

WhatsApp
Get Alert