ملک میں نہ اسلام ہے نہ جمہوریت، کروڑوں دے کر اسمبلی پہنچنے والے عوام کے خیرخواہ نہیں ‘سوداگر’ ہیں؛ ہنہ اوڑک واقعے پر حافظ حمداللہ کا سخت رد عمل

‘ قوم کے سوداگروں کو مذاکرات اور فاتحہ خوانی میں نہ چھوڑیں ‘ دھرنے سے خطاب


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ قوم کے سوداگروں کو مذاکرات اور فاتحہ خوانی میں نہ چھوڑیں، کروڑوں روپے دے کر ممبر اسمبلی بننے والے قوم کے خیر خواہ نہیں بلکہ سوداگر ہیں۔ اس ملک میں نہ اسلام ہے اور نہ جمہوریت، جمعیت علماء اسلام ہنہ اوڑک کے عوام کے ساتھ ہے اور ہر فورم پر ان کے لیے آواز اٹھائے گی۔
اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کی جانب سے پورے علاقے کو یرغمال بنا کر خوف و ہراس پیدا کرنا، لوگوں کو شہید کرنا اور ساتھ لے جانا کونسا قانون ہے؟ وہ حکومتی رٹ کہاں ہے جس کے دعویدار ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم نے دہشت گردوں سے لڑ کر اپنی رٹ قائم کر لی ہے؟ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پہلے بلوچ علاقوں میں حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ لوگ گھروں سے نہیں نکلتے تھے اور اب یہی صورتحال پشتون علاقوں تک نہ صرف پہنچ گئی ہے بلکہ اس میں اتنی تیزی آ گئی ہے کہ مسلح افراد گھروں تک پہنچ گئے ہیں اور حکومت کی عملداری کہیں نظر نہیں آ رہی۔
حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ حکومتی رٹ اس وقت قائم ہو سکتی ہے جب مسندِ اقتدار پر عوام کے حقیقی نمائندے ہوں اور انہیں عوام کی فکر ہو، لیکن اس حکومت کو کرپشن، کمیشن اور سوداگری کے سوا کچھ نہیں سوجھتا۔ لوگوں کو بے روزگار کرنا اس حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے جبکہ عوام کو تحفظ اور روزگار فراہم کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تمام تر ابتر صورتحال کے باوجود ان کا اپنے آپ کو ‘عوامی حکومت’ کہلانا کسی صورت درست نہیں ہے۔ ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ عوام کو مزید دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے موجودہ حکومت فی الفور مستعفی ہو کر گھر چلی جائے۔
write English news With headline

WhatsApp
Get Alert