اینکر ریحان طارق پر دفعہ 295-A کے تحت مقدمہ، 6 روزہ ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے
ضلع کچہری لاہور میں ہونے والی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو 6 روز کے لیے این سی سی آئی اے کے حوالے کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی تفتیشی رپورٹ بھی طلب کرلی

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور کی ضلع کچہری نے توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کے مقدمے میں گرفتار معروف ٹی وی اینکر اور پوڈ کاسٹر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار نیوز اینکر ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ کے معاملے پر ضلع کچہری لاہور میں سماعت ہوئی، عدالت نے تفتیشی ٹیم کی استدعا پر اینکر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، عدالت نے ملزم کو 6 روز کے لیے این سی سی آئی اے کے حوالے کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی تفتیشی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اینکر ریحان طارق کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعہ 295-A اور پیکا ایکٹ کی دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، یہ مقدمہ این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں باقاعدہ طور پر درج ہوا ہے۔
مقدمے کے متن کے متن میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ ریحان طارق نے اپنے آفیشل پیج پر ایک انٹرویو اپ لوڈ کیا تھا، جس میں انتہائی حساس اور متنازعہ سوالات کیے گئے تھے، تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ ریمانڈ کے دوران ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والی ڈیوائس اور موبائل فون کا تفصیلی فرانزک کروانا ہے، جس کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر تھا۔
