زیارت واقعے پر کسی شریف آدمی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا؛ اسلحہ ختم ہونے کے باوجود اہلکاروں کی مدد کو کوئی نہیں آیا، محمود خان اچکزئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ زیارت کے افسوسناک واقعے پر کسی شریف آدمی کو تو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں بلوچستان کی مخدوش صورتحال پر منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
محمود خان اچکزئی نے زیارت میں سیکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ محصور پولیس اہلکاروں نے 12 بجے ہی متعلقہ حکام کو اطلاع دے دی تھی کہ ان کا اسلحہ ختم ہو گیا ہے، مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومتی بے حسی اس قدر عروج پر تھی کہ 5 بجے کے بعد ڈپٹی کمشنرز (ڈی سیز) سمیت متعلقہ ذمہ داران نے فون اٹھانا تک بند کر دیا تھا۔ اس مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے بعد اپنی جانیں خطرے میں دیکھ کر اہلکاروں نے مجبوراً اپنے عزیز و اقارب کو مدد کے لیے پکارا۔ محمود خان اچکزئی نے ریاست اور حکومت کی جانب سے اہلکاروں کو اس طرح بے یار و مددگار چھوڑنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعلقہ اداروں کی کھلی ناکامی قرار دیا۔

WhatsApp
Get Alert