میانوالی مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے عمران خان کے نام کی تختی ہٹائے جانے کا انکشاف
ہسپتال تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے پی ٹی آئی دور میں مکمل ہوا، عمران خان کے نام کی تختی جو مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسنگ کالج کے مین گیٹ پر نصب تھی، اکھاڑ کر سٹور روم میں پھینک دی گئی؛ بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی کی مذمت

میانوالی(قدرت روزنامہ)تحریک انصاف کے رہنماء اور قانون دان بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے سابق وزیراعظم عمران خان کے نام کی تختی ہٹائے جانے اور ہسپتال کا آزادانہ وجود ختم کرنے پر موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انہوں نے اس عمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی منصوبے کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی شرمناک امر ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے نام کی تختی، جو 200 بیڈز پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسنگ کالج میانوالی کے مین گیٹ پر نصب تھی، اسے اکھاڑ کر ایک اسٹور روم میں پھینک دیا گیا ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرواتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے تقریباً 3 ارب روپے کی بھاری لاگت سے مکمل ہونے والا یہ جدید مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میانوالی کے عوام کو تحفے میں دیا تھا، یہ ہسپتال ناصرف میانوالی بلکہ پورے سرگودھا ڈویژن کے شہریوں کے لیے ایک عظیم طبی سہولت فراہم کر رہا تھا، اس تاریخی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح خود عمران خان نے دسمبر 2022ء میں کیا تھا۔
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فارم 47 کی حکومت نے اس آزاد ہسپتال کو ختم کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ضم کر دیا ہے اور اب عمران خان کے نام کی تختیاں بھی اتاری جا رہی ہیں، اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ حکومت عمران خان کے عوامی منصوبوں کی شناخت اور تاریخ کو مٹانے کی باقاعدہ کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں واضح کیا کہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ عوامی مفاد کے منصوبے کسی سیاسی جماعت کی ذاتی جاگیر یا ملکیت نہیں ہوتے، بلکہ یہ عوام کے ٹیکسوں سے بنتے ہیں اور عوام کی ہی ملکیت ہوتے ہیں، اس لیے ان پر ایسی سیاست چمکانا افسوسناک ہے۔
