زیارت اور ہنہ اوڑک واقعات پر استعفیٰ دیا جانا چاہیے تھا؛ ملک فوج کے لیے ہے یا فوج ملک کے لیے؟ محمود خان اچکزئی


اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام (Save Balochistan) آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہوا میں کوئی لٹکتی ہوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ پانچ مختلف اقوام پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی کا مشترکہ مملکت ہے۔ ان اقوام میں سے کسی نے دوسرے کو فتح کیا ہے نہ کوئی کسی کی کالونی ہے نہ کوئی کسی کا آقا ہے اور نہ ہی غلام۔ بلکہ یہ ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔ کیا افواج پاکستان اس ملک کے لیے ہیں یا پھر یہ ملک فوج کے لیے ہے؟ جب تک یہ فیصلہ نہیں ہوتا ہمارا ملک نہیں چل سکتا۔ جب ہم یہ بات کرتے ہیں تو فوراً غداری کا تمغہ آجاتا ہے، زیارت اور کوئٹہ کے ہنہ اوڑک واقعات پر کسی شریف آدمی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
اسلحہ ختم ہونے کے باوجود اہلکاروں کی مدد کے لیے کوئی نہیں آیا۔ دن کے 12 بجے زیارت کے اہلکاروں نے اپنے آفیسران وغیرہ کو کہا تھا کہ ہماری گولیاں ختم ہورہی ہیں، لوگ زیادہ ہیں ہمارے لیے امداد پہنچاؤ۔ پوری رات لڑے ہیں۔ شام پانچ بجے انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیے کہ ہم نہتے ہوگئے ہیں اگر حکومتی مدد نہ آئی تو ہمارے جنازے گھروں کو آئیں گے۔ وزیر اعلیٰ بگٹی صاحب ہیں اس شریف آدمی کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔ شروع دن سے پاکستان میں ایک متفقہ آئین بننے کے راستے محدود کیے گئے۔ یہاں تک بات پہنچی کہ ہمارا ملک اس کشمکش میں ٹوٹ گیا۔ 1973ء میں بڑی مشکل سے ایک آئین کی تشکیل ہوئی اگرچہ اس پہ بعض لوگوں نے دستخط نہیں کیے بہر حال لوگ رضا مند ہوئے اس پہ انسان اپنی اجتماعی آزادی میں جب اس نتیجے پہ پہنچا کہ کبھی چنگیز خان، کبھی دوسرا کبھی تیسرا چل پڑتا ہے غریب لوگوں کے خون بہائے جاتے تو اس نتیجے پہ پہنچا کہ ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جس کا نام جمہوریت ہے اگرچہ وہ پرفیکٹ نہیں ہے اُس کا بنیادی نقطہ یہ تھا جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہماری انگلیاں جلتی ہیں وہ نقطہ یہ تھا کہ جس کے ہاتھ میں تلوار ہوگی وہ جرگے میں نہیں بیٹھے گا۔ جرگے میں وہ لوگ بیٹھیں گے جس کا تلوار سے تعلق نہیں ہوگا یہ جرگہ ہمارا سسٹم چلائے گا۔
جاسوسی ادارے بالکل کسی اسٹیٹ کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں ہمارے جاسوسی ادارے جتنے بھی ہیں ہماری خواہش ہے کہ ہماری جاسوسی ادارے دنیا جہاں کے جاسوسی اداروں سے ماہر ہوں۔ سی آئی اے، کے جی بی وغیرہ سے بھی۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ ہمارے جاسوسی ادارے گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن یہ جو سب کچھ ہورہا ہے باجوڑ سے خیبر تک۔ خیبر سے وزیرستان اور بلوچستان تک یہ سب کیوں کسی کو نظر نہیں آرہا ہے۔ ارادہ کیا ہے؟ پشتون اور بلوچ انڈس کے اس پار یہ سنٹرل ایشین لوگ ہیں یہ مرکزی ایشیاء کے لوگ ہیں۔ سندھ اور پنجاب انڈین سٹاک کے لوگ ہیں ابھی جب متفرق قسم کے لوگ رہتے ہوں تو اس کا واحد علاج یہ ہے کہ یہاں ایک سوشل کنٹریکٹ ہوگا جس کی تابعداری ہر ایک کو کرنی پڑے گی۔ ابھی جو خیبر سے باجوڑ تک اور ہمارے پشتون بلوچ صوبے میں جو کچھ ہورہا ہے ہماری حکومت یا ہمارے ادارے اتنے کمزور نہیں ہیں کہ وہ پن پوائنٹ نہ کرسکیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ کو ن کررہا ہے۔
مائنز اینڈ منرل کے نام پر جب آپ آئیں گے لوگوں کے مائنز اینڈ منرل پر قبضہ کریں گے۔ ویسے اصطلاح میں تو لوگ کہتے ہیں یہ علاقہ غیر ہے۔ فاٹا یا پشتون علاقہ یہ علاقہ اپنا مالک رکھتا ہے کہ ایک ایک انچ زمین کی تقسیم ہوگی وہ بھی معلوم ہے۔ پشتون اور بلوچ اکبر اعظم کے وقت سے اپنی خودمختیاری کے لیے لڑرہے ہیں۔ بایزید روشان کی تحریک، خوشحال خان کی تحریک، ایمل خان، گجوخان، آخر میں باچا خان کی خدائی خدمتگار۔ آج تو حالت یہ ہوگئی ہے یہ پشتون پگڑی اور داڑھی والے یہ دہشت گردی کی نشانی ہے۔ جہاں یہ داڑھی نظر آئے جہاں یہ پگڑی نظر آئے پکڑتے ہیں اس کو اور کہتے ہیں کہاں کے رہنے والے ہو۔ پاکستان کے تمام شہروں میں پشتونوں کی زندگی سخت کردی گئی ہے۔ سخت مصیبت میں ہیں۔ قصور صرف ان کا یہ ہے کہ وہ پشتو بولتے ہیں اور پشتو افغانستان میں بھی بولی جاتی ہے۔ غریب مزدور، پشتون کو سکھر، حیدرآباد یا کسی بھی شہر میں جس طرح ان کو مارا پیٹا جاتا ہے کہ انہیں انسان نہیں سمجھا جاتا۔ ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری فوج پاکستان کی فوج ہے یا یہ ملک اس فوج کے حوالے ہے جب تک ہم یہ فیصلہ نہیں کریں گے یہ ملک نہیں چلے گا۔
بے انصافی سے کدورتیں بڑھتی ہیں، نفرتیں بڑھتی ہیں اور بے انصافی کے نتیجے میں بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ فلاں دہشت گرد، جب دہشت گرد کی نئی تعریف نہ کی گئی دنیا کے بہت بڑے اولوالعزم لوگ، بڑے انقلابی لوگوں، انبیاء، رسولوں کو قتل کیا گیا کیونکہ وہ نظام کے خلاف انقلاب لانا چاہتے تھے نظام کو چھیڑنا چاہتے تھے۔ زکریا علیہ اسلام کو ایک درخت کے ساتھ باندھ کے آری چلائی گئی تھی۔ دہشت گردی کی تعریف ہمیں کرنی ہوگی۔ وطن کی حفاظت کے لئے جو آدمی فراری ہوتا ہے پہاڑی علاقوں میں یہ روایت ہے کہ جو آدمی ناراض ہوتا ہے تو وہ پہاڑ پہ چلا جاتا ہے کہ میرے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے پھر اُن کے گلے شکوے سُنے جاتے ہیں اُنہیں بلایا جاتا ہے ان کے خدشات دور کیے جاتے ہیں، یہاں جو آدمی احتجاج کرتا ہے اُنہیں آپ غدار ڈکلیئر کردیتے ہو۔ قرآن کریم غلامی کو بندگی قرار دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ اسلام کی تمام تحریک اپنے عوام کی آزادی کی تحریک تھی۔ اُس آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے فرعون نے فیصلہ یہ کیا کہ اس غلام ملت کی ہر نرینہ اولاد کو ذبح کردو۔ یہاں وہ ظلم تو نہیں ہوسکتا کہ ہمارے بچوں کو ذبح کیا جائے گا۔ فرعون نے یہ کیا کہ موسیٰ علیہ اسلام نے نہتے ہاتھوں سے مظلوم ومقبول لوگوں کو منظم کیا اور فرعون کا بیڑا غرق ہوا۔ ابراہیم علیہ اسلام نمرود کے سامنے کھڑا ہوگیا ہم تو آج کسی ملک کسی وڈیرے کے سامنے بات نہیں کرسکتے۔
پاکستان ہمارا ملک ہے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم اس ملک میں آزاد صحیح انسانوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی سے خیرات زکوٰۃ نہیں چاہتے جو کچھ اللہ پاک نے ہمیں دیا ہے ہمارے وطنوں میں ہے اس پر پہلا حق ہمارے بچوں کا ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہوگا کہ وزیرستان میں آپ سونا ڈھونڈو گے اور وزیرستان کے لوگوں کو نئی اصطلاح کے مطابق مہاجر آئی ڈی پیز بناؤ گے۔ اس سے بڑی بربادی جنم لے گی۔ سویت یونین جیسا ملک چھوٹے سے یوکرائن کے مقابلے میں پریشان کھڑا ہے، یوکرائن کے سارے نظام کو روسیوں نے بنایا ہے اُنہیں سب کچھ پتہ ہے ہوائی اڈہ کہاں ہے، ذخائر کہاں ہیں لیکن چھوٹے سے یوکرائن کو جب اُسے ان کے مخالفین نے کہا کہ ہم باغی نہیں ہیں لیکن یہ کیسے ہوگا ٹرمپ پہ گولی چلی کان سے گزری۔ جو عورت انٹیلیجنس کی ذمہ دار تھی اُسی وقت استعفیٰ دے دیا۔ کہ یہ میرے ادارے کی کمزوری تھی کہ میرے ادارے کی ذمہ داری تھی کہ کہ یہ آدمی کس طرح وہاں پہنچا اور کس طرح میرے صدر پر حملہ آور ہوا؟ دنیا میں ٹرین اُلٹ جاتی ہے۔ اُس کا حادثہ ہوجاتا ہے تو وزیر ریلوے استعفیٰ دے دیتا ہے یہ جو ابھی اطلاع آئی ہے زیارت میں بارہ بجے کو آفیسروں کو اطلاع آئی کہ ہماری گولیاں ختم ہوگئی ہیں لوگ زیادہ ہیں خدا کے لیے ہمیں امداد پہنچاؤ۔ 5 بجے تک وہ لڑتے رہے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر یا جو بھی ہیں 5 بجے انہوں نے اپنے عزیزوں کو فون کیا کہ ہم نہتے ہوگئے ہیں اگر وہ امداد نہیں آتی تو ہمارے جنازے گھر آئیں گے۔ کسی ذمہ دار نے بھی استعفیٰ نہیں دیا۔ وہاں وزیر اعلیٰ ہے کسی شریف آدمی کو تو استعفیٰ دینا چاہتے تھا۔ یا کسی نے کسی کو نوکری سے نکالنا چاہیے تھا بس انسان ہیں مرتے رہیں گے اور آپ کہو پاکستان زندہ باد۔ پاکستان اس طرح زندہ باد نہیں ہوگا۔ پاکستان بہت بڑی بربادی کی طرف چلا جائے گا۔
ہم اپنی افواج سے درخواست کرتے ہیں اپنی ایجنسیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ کو چاہیے مہربانی کریں آئین میں جو حلف آپ نے اٹھایا ہے اُس کا آپ خیال رکھیں اور جو ہم نے اٹھایا ہے اُس کا ہم خیال رکھیں گے۔ سپاہی سے جرنیل تک سب اپنے حلف میں کہتے ہیں کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے حلف کا خیال رکھو پاکستان بچ جائے گا اور چل جائے گا۔ آئین میں جو ترامیم 26ویں، 27ویں ترامیم ہوئیں اگر ہمارے چھوٹے صوبوں نے ووٹ نہ دیا ہوتا تو یہ آئین نہیں بگڑنا تھا۔ چھوٹے صوبوں کے بلوچ، پشتون، سندھی ہمارے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اتنے ووٹ تھے کہ اس میں کوئی ترمیم نہیں ہوسکتی تھی ہم نے مصلحت کے تحت یہ کام کیا ہے ہم نے مصلحتوں سے کام لیتے ہوئے اپنی بربادی کی ہے اپنے عدلیہ کے ہاتھوں کو ہم نے باندھا ہے۔ 26ویں ترمیم صرف دو ووٹ سے کامیاب ہوئی تھی جبکہ ہمارے ووٹ کم سے کم پندرہ بیس تھے۔ ہم نے ووٹ دیئے اپنے خلاف۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سینیٹ کو وہ اختیارات ہی نہیں دیے گئے ہیں جو قومی اسمبلی کے پاس ہیں۔ سینیٹ مشترک ریاستوں میں اس لیے ہوتا ہے کہ چھوٹے ہاؤس بڑے ہاؤس سب میں ان الگ قوموں کی نمائندگی برابر ہو۔ آج بھی اگر سینیٹ کو اختیارات دے دیے جائیں اور ہماری کوئی جرگہ ہوسکتا ہے جرگہ بنادو۔ جرگہ آرمی چیف کے پاس چلے جائیں گے خدا کو مانو ہماری جان چھوڑو۔ اپنا کام کرو پاکستان کو ہم بنادیں گے۔ بلوچوں کو میں راضی کروں گا، آپ صرف تمام قومیتوں کے وطنوں میں ان کے وسائل پر ان کے بچوں کا پہلا قانونی وآئینی حق تسلیم کرو یہ مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ اور اگر آپ نے بسم اللہ کردی ہے تو معافی چاہتا ہوں ایک کتاب میں لکھا تھا فوج اور عوام کے درمیان پندرہ لڑائیاں ہوئیں تھیں جس میں نپولین بھی تھا عوام اور افواج کے درمیان 15 کے پندرہ میں عوام کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ ویت نام پہ امریکہ نے اتنے بم گرائے جو تمام جنگ عظیم میں نہیں گرائے گئے تھے لیکن پھر بھی ہمیں ویتنام سے نکلنا پڑا۔ آئیں اس ملک کو سنبھالیں۔ اس ملک کا علاج یہ ہے کہ یہاں پارلیمنٹ خودمختار ہوگی۔ آزاد انتخابات ہوں گے، ہر علاقے کے لوگوں کی زبانوں وثقافت کا احترام ہوگا، سینیٹ قومی اسمبلی کے برابر ہوگا۔ عدلیہ اور پریس آزاد ہوگی تو ملک چلے گا۔ اور اگر آپ نے لوگوں کو مارنا ہے تو بسم اللہ کتنے لوگوں کو مارو گے؟ فرعون سے زیادہ تو آپ نہیں مارسکتے۔ یہ ہمارا ملک ہے آئیں عہد کریں۔ افواج، ایجنسیاں، سیاسی پارٹیاں ہر ادارہ جب یہاں بات کی گئی معافی مانگنے کی تو سب معافی مانگیں۔ مصلحتوں سے کام نہ لیں۔ جب تحریک انصاف کی چھینی ہوئی سیٹیں بانٹی گئیں تو کسی نے لینے سے انکار نہیں کیا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آئیں عہد کریں جب وردی میں لوگ اسمبلیوں کو مارکیٹ میں رکھ لیتے ہیں اور بولی لگ جاتی ہے تو بسم اللہ بولی ہے 40 کروڑ میں جب آپ اسمبلی کی سیٹیں بیچیں گے لوگوں کو وزیر بنائیں گے وہ تو یہ 40 کروڑ پاکستان کے پیٹ سے نکالیں گے۔ اگر آپ نے پھر بھی اپنے طریقے سے ملک کو چلانا ہے تو جو بربادی ہوگی ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert