سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے تحریک کا آغاز کر رہے ہیں؛ ذمہ دار استعفیٰ دیں، محمود خان اچکزئی

اسلام آباد(ڈیلی قدرت نیوز)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے باقاعدہ تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ زیارت کے ذمہ دار فوری استعفیٰ دیں یا انہیں برطرف کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پشتون اور بلوچ عوام نے فیصلہ کر لیا تو بلوچستان میں کوئی بھی حکومت نہیں کر پائے گا۔
اسلام آباد میں اپوزیشن قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے ملک کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور ریاستی اداروں کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ سانحہ زیارت میں سیکیورٹی کی ناکامی کا انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیارت کے قریب لیویز اور دیگر اہلکاروں کو انتہائی کم گولہ بارود (صرف ایک یا دو میگزین) کے ساتھ کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ حملے کی صورت میں اہلکار دن 12 بجے تک مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن کوئی امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے کئی جوان شہید ہو گئے۔
انہوں نے ریاستی بے حسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ درجنوں افراد کے جانی نقصان کے باوجود کسی ڈی سی، کمشنر، آئی جی یا بریگیڈیئر کو نہ تو معطل کیا گیا اور نہ ہی کسی نے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے اس واقعے کا موازنہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملے سے کیا، جس میں سیکیورٹی کی ناکامی پر سیکرٹ سروس کی خاتون سربراہ نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دے دیا تھا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام قیادت کوئٹہ جا کر محتاط انداز میں حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ نوجوانوں کو مزید مت اکسائیں، کشمیر اور بلوچستان میں اپنے بچوں کو گولی مارنے کا نتیجہ صرف بربادی ہوگا۔ اگر بلوچستان کے حکمرانوں نے بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو انہیں عوامی طاقت سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں گے۔
وسائل پر حق اور رضاکارانہ فیڈریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے، اور اس کی بقا اسی میں ہے کہ تمام قومیتوں (بلوچ، سندھی، پنجابی، پشتون اور کشمیریوں) کو ان کے وسائل پر مکمل آئینی حق دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا، انہیں غلام سمجھ کر ان کے حقوق غصب کیے گئے اور وفاق میں ان کی آواز نہ سنی گئی، تو وہ ایک نئے آئین اور نئے عمرانی معاہدے (سوشل کانٹریکٹ) کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے اسمبلیوں میں وفاداریاں تبدیل کرانے اور سیٹوں کی خرید و فروخت کے عمل کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں کی سیٹیں نیلام کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ایک غریب اور شریف سیاسی کارکن اس عمل سے باہر ہو چکا ہے۔ اس وقت ملک میں جو لوگ خود کو مالک سمجھ رہے ہیں، انہیں تاریخ یاد رکھنی چاہیے کہ اس وطن کی آزادی کے لیے پشتون، بلوچ اور سندھی عوام نے انگریزوں کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ اسے ایک حقیقی فیڈریشن بنانا چاہتے ہیں جہاں تمام اکائیوں کو ان کے وسائل پر پہلا آئینی حق حاصل ہو۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے نازک اور کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے، اگر عوام کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو اپوزیشن جماعتیں عوامی طاقت کے ذریعے موجودہ حکمرانوں کو آئین کے دائرے میں رہنے پر مجبور کریں گی۔
