وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ، مولانا فضل الرحمان کے حق میں بول اٹھے

پشاور (قدرت روزنامہ) وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان نے کہا ہے کہ شہداء سب کے سانجھے اور ہمارا فخر ہیں، مولانا کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیےتھا، لیکن ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا، پریس کانفرنسز کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہداء سب کے سانجھے ہوتے ہیں، شہداء ہمارا فخر ہیں، مولانا فضل الرحمان کو اس نوعیت کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا، تاہم ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا، مولانا فضل الرحمان کے پارلیمنٹ سے متعلق بیان کی تائید کرتا ہوں،پارلیمنٹ محض ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،مولانا فضل الرحمان کے خلاف پریس کانفرنسز کیں گیئں،اس معاملے کو یہاں بند کرکے آگے بڑھنا چاہیے، پریس کانفرنسز کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی وفاقی حکومت کا فیصلہ ہے، جس پر عملدرآمد متعلقہ ادارے کر رہے ہیں۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان سے متعلق تمام معاملات اور باہمی مسائل کا حل مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتی بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشگوار تعلقات کو فروغ ملے۔ ایک طرف افغانستان کے ساتھ باڈر بند ہے جبکہ دوسری جانب ہندوستان کیساتھ تجارت کی باتیں ہو رہی ہے اس لیے مزید یہ دوغلی پالیسی بند ہونی چاہیئے۔
خیبرپختونخوا حکومت صحافی برادری کی فلاح و بہبود اور آزاد صحافت کے فروغ پر عملی یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت ملک کی واحد حکومت ہے جس نے پشاور پریس کلب کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کی۔ صحافیوں کی مضبوطی، جمہوریت اور عوام کے حقِ معلومات کی مضبوطی ہے۔ اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے کے مالی استحکام کے لیے کوشاں ہیں، پی ڈی ایم کی نگران حکومت نے خیبرپختونخوا کو مالی طور پر کمزور کیا تھا، نگران حکومت کے اختتام پر صوبے کے پاس سرکاری ملازمین کی صرف پندرہ دن کی تنخواہیں موجود تھی، صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کو کئی مرتبہ تنخواہیں پیشگی ادا کیں، وفاقی حکومت کے امتیازی سلوک کے باوجود صوبائی حکومت نے صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، نگران دور حکومت میں گندم کی خریداری کی گئی لیکن اس کی ادائیگی نہیں کی گئی، نگران دور میں صحت کارڈ بند کیا گیا، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صحت کارڈ کی سہولت دوبارہ بحال کی، گزشتہ تین سال میں صحت کارڈ پر 125 ارب روپے خرچ کیے گئے، فارم 47 کی حکومت غریب عوام کی فلاح و سہولت کے منصوبے بند کررہی تھی ،صوبائی حکومت نے بجلی کے خالص منافع کی مد میں دو سال کے دوران 72 ارب روپے حاصل کیے، گزشتہ مالی سال سالانہ ترقیاتی پروگرام کے 195 ارب روپے کے مقابلے میں 240 ارب روپے خرچ کیے گئے، رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 40 فیصد فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی صورتحال واضح نہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے اے آئی پی کے تحت ضم اضلاع کے لیے 11 ارب روپے جاری کیے۔
