آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کا ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان

جنرل مشرف کے خلاف تاریخی تحریک چلانے والے علی احمد کرد ایک بار پھر میدان میں آگئے


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک کی قانون دان برادری نے عدالتی چھٹیوں کے فوری بعد ایک نئی اور منظم ملک گیر وکلا تحریک چلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا، سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت میں واقع سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے احاطے میں منعقدہ نیشنل ایکشن کمیٹی کے اہم اجلاس میں متفقہ طور پر سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد کو اس تحریک کی قیادت سونپ دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق آج بروز ہفتہ 18 جولائی 2026ء کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے احاطے میں آل پاکستان وکلا نیشنل ایکشن کمیٹی کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، اس اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور سینئر قانون دان علی احمد کرد نے کی، اجلاس میں ملک بھر سے نامور وکلا رہنماؤں نے شرکت کی اور موجودہ آئینی و قانونی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔


بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں موجود تمام وکلا رہنماؤں اور ایکشن کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے علی احمد کرد کو ملک گیر تحریک کا قائد منتخب کر لیا، وکلا برادری کا کہنا ہے کہ علی احمد کرد کی قیادت میں یہ تحریک قانون کی بالادستی کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہو گی۔
واضح رہے کہ علی احمد کرد وہی شخصیت ہیں جنہوں نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں عدلیہ کی آزادی اور مشرف کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ بار کے صدر کی حیثیت سے فرنٹ لائن پر تاریخی وکلا تحریک کی قیادت کی تھی، اب ایک بار پھر قیادت سنبھالتے ہی انہوں نے بڑے اور اہم اعلانات کر دیئے ہیں، جس سے ملکی سیاست اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔
بتایا جارہا ہے کہ وکلا ایکشن کمیٹی کی اس نئی تحریک کا باقاعدہ اور بھرپور آغاز عدالتی چھٹیوں کے اختتام کے فوراً بعد کیا جائے گا، اس تحریک کے تحت ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کو متحرک کیا جائے گا اور آئین و قانون کی پاسداری کے لیے احتجاجی مہمات اور ممکنہ طور پر دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے، وکلا رہنماؤں کا عزم ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کے خلاف ماضی کی طرح اس بار بھی بھرپور مزاہمت کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert