کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ، متاثرہ خاندانوں کو معاشرتی غیر منصفانہ رویوں کا سامنا

کراچی (قدرت روزنامہ)کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ یا غیر محفوظ طریقے سے استعمال کی گئی سرنجوں کے باعث درجنوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے ہیں۔
اس مہلک بیماری نے متاثرہ خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، ایک طرف والدین ایڈز کا نشانہ بننے والے بچوں کے علاج کےلیے فکر مند ہیں تو وہیں معاشرتی رویہ بھی ان بچوں کو آہستہ آہستہ نگل رہا ہے۔
کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن کی رہائشی عائشہ کامران نے جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ بچے میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد ان کا گھر میں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘مکان مالک کو خبر ہوگئی کہ ان کے بیٹےکو ایڈز ہےجس کی وجہ سے انہیں گھر خالی کرنے کو کہاگیا، شوہر بچےکے علاج کی وجہ سےکام پر نہیں جاپاتے اور اگر چھٹی کر لے تو انہیں کمپنی کی جانب سے کام سے نکالنے کی دھمکی ملتی ہے’۔
عائشہ نے سوال کیا کہ کیا اسپتال انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے وہ اور انکا خاندان معاشرے سے اس سلوک کے مستحق ہیں؟
دوسری جانب پٹھان کالونی کے رہائشی محمد آصف نےجیو ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی 4 سالہ بچی کو 6 ماہ قبل معمولی طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لائے تھے لیکن انہیں خبر نہیں تھی کہ یہاں سے وہ اس خطرناک بیماری کے ساتھ گھر جائیں گے۔
مزدور پیشہ ور محمد آصف نے مزید بتایاکہ اُن کی بیٹی گھر میں اکیلے ہی وقت گزارتی ہے یا پھر اسپتال میں کیونکہ اس بیماری کی وجہ سے محلے داروں نے اپنےبچوں کو ان کی بیٹی کے ساتھ کھیلنے سے بھی منع کردیاہے، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یہ سب دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔
کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے پھیلنے والے ایچ آئی وی وائرس نے ایک ہی خاندان کے 4 بچوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
اورنگی ٹاؤن کے رہائشی آفتاب خان نے اپنے 4 بچوں کو خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا ذمہ دار اسپتال انتظامیہ اور نرسنگ اسٹاف کو ٹہراہا ہے۔
آفتاب خان نے کہا کہ‘ہماری انکھوں کے سامنے بچوں کو ایک ہی سرنج سے انجیکشن لگائے گئے، میری بچی نے اعتراض بھی کیا لیکن ہمیں جواب ملا کے تم ڈاکٹر ہو یا ہم؟ میرے بیٹے کو اسکول سے نکال دیا گیا، محلے والوں نے اسکول انتظامیہ کو درخواست دی کہ اگر ایڈز کے مرض میں مبتلا بچہ اسکول آیا تو ہم اپنے اپنے بچوں کو اسکول سے نکال لیں گے’۔
آفتاب نے روہانسا ہوکر کہاکہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے ہم سےکہا جارہا ہےکہ بچوں کو پھل کھلائیں، 3 مہینے سےگھر کاکرایہ نہیں دیا، کہاں سے بچوں کے لیے کھانے کا انتظام کریں۔
اس معاشرتی سلوک سےمتعلق انسانی حقوق پر کام کرنے والے اور قانون کیا کہتا ہے ؟
ذوالفقار بھٹو جونئیر ایچ آئی وی سے متعلق سوشل میڈیا اور ان گراؤنڈ مہم چلارہے ہیں، انہوں نے ایڈز سے متاثرہ بچوں کے ساتھ معاشرتی رویے پر جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘سندھ اینٹی ڈسکرمنیشن ایکٹ کے تحت کسی بھی بچے کو کرونک ڈیسیز کی وجہ سے اسکول سے نہیں نکالا جاسکتا کیونکہ ایچ آئی وی کرونک ڈیسیز ہے تو یہ بچے بھی اسکول جانے کے ایسے ہی حقدار ہیں جیسے نارمل بچے جاتے ہیں’۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایچ آئی وی پر قابو پانے کی مہم کیا ہے ؟ تو ذوالفقار بھٹو جونیئر نے بتایا کہ وہ سندھ کے شہر حیدرآباد، دادو اور لاڑکانہ سمیت اب کراچی میں بھی ایڈز پر قابو پانے کے لیےکام کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ہم نے مختلف شہروں میں اپنے کیمپس لگائے ہیں، کیسز زیادہ ہونے کی وجہ سے لاڑکانہ ہمارا فوکس ہے لیکن اب کراچی میں بھی یہ کیسز بڑھ گئے ہیں اس لیے یہاں بھی یہ مہم جاری ہے، ہم سوشل میڈیا پر انفلوئنسرز کے ساتھ ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی ویڈیوز بنارہے ہیں، اس میں اداکار بھی شامل ہیں اور دوسری جانب گراؤنڈ لیول پر لوگوں کو جاکر اس بارے میں بتانا ہے تاکہ معاشرتی رویے کو ان مریضوں کے لیے بہتر کیا جاسکے’۔
ذوالفقار نے مزید کہا کہ ایڈز کووڈ کی طرح چھونے سے نہیں پھیلتی،انہوں نے ساتھ ہی سرنجوں کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت پربھی زوردیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ استعمال شدہ شرنجوں کے دوبارہ استعمال کرنے سے بڑھا تھا، سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد 200 بتائی جارہی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ اب تک 1000 بچے اس مہلک بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
