پی ٹی آئی کا مشاورت کا پرانا عذر ختم ہو چکا، وفاقی وزیر اطلاعات

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا مشاورت کا پرانا عذر ختم ہو چکا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے تجاویز دیں لیکن پی ٹی آئی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سلمان اکرم راجا کے ٹویٹ کے ردعمل میں ایکس پر لکھا کہ پی ٹی آئی کا مشاورت کا پرانا عذر ختم ہوچکا ہے، وفاقی حکومت نے تجاویز دیں لیکن تحریک انصاف کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے ایکس پر لکھا تھا کہ حکومت چاہتی تھی خیبر پختونخوا حکومت وفاق اور اس کے اداروں کے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری تمام آپریشنز اور ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید کرے۔

عطا تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے سیاسی طور پر کمزور ہونے کے بعد اب مشترکہ لائحہ عمل کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی پالیسی دہشتگردی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کا بیانیہ دہشتگردوں کے حق میں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتی اور اپنی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کیوں نہیں بلاتی؟

انہوں نے سوالات اٹھائے کہ خیبرپختونخوا کابینہ پاکستان میں دہشتگردی کی مذمت کیوں نہیں کرتی؟ صوبائی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا؟ عطا تارڑ نے پی ٹی آئی قیادت سے سوال کیا کہ وہ شہدا کے جنازوں میں شرکت کیوں نہیں کرتی اور سکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے چوکیوں کا دورہ کیوں نہیں کیا جاتا؟

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی رہنما پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے ساتھ کتنی بار شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دباؤ میں آکر مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی بات کرنا پی ٹی آئی کی پرانی حکمت عملی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا میں دہشتگردی بڑھی اور دہشتگردی نے معیشت کو تباہ کیا، جس کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے۔

انہوں نے اجتماعی مشاورت اور جرگوں کے بیانیے کو تاخیری حربوں کے سوا کچھ نہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اب پرانی بیان بازی کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے ایکس پر لکھا تھا کہ حکومت چاہتی تھی خیبر پختونخوا حکومت وفاق اور اس کے اداروں کے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری تمام آپریشنز اور ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع اور ان سے متصل علاقوں میں 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید مانگی گئی جبکہ پی ٹی آئی ٹیم کا موقف تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کیلئے ہر گز کوئی برداشت نہیں رکھتی، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومت کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں اور اسمبلی میں چند ماہ قبل صوبے کے معززین کے جرگے کی مشاورت اور سفارشات کی بنیاد پر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ ایسا لا ئحہ عمل ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی ضمانت ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مشاورت اور اتفاق کا راستہ اپنانے کو تیار نہ تھی، پی ٹی آئی نے ہمیشہ اندھے آپریشنز کی مخالفت کی ہے جنکی وجہ سے معصوم خون بہے یا لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنے ہی صوبے میں بے گھر ہونا پڑے۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ حکومت مشاورت اور اتفاق کا راستہ اپنانے کو تیار نہ تھی۔

WhatsApp
Get Alert