جائیداد اور سرکاری نوکری کیلئے بیٹی نے سگی ماں کے ساتھ کیا کیا؟ سچ جان کر روح کانپ اٹھے گی

جے پور(قدرت روزنامہ)بھارت کے شہر جے پور کے علاقے پرتاپ نگر میں لالچ اور نفرت کا ایک انتہائی ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 23 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر جائیداد پر قبضے اور سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی خاطر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے اپنی ہی سگی ماں کا بے دردی سے قتل کروا دیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمہ آیوشی شرما کو گرفتار کر لیا ہے جس نے دورانِ تفتیش اپنے بھیانک جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

ملازمت کا تنازع اور خاندانی رنجش

تفتیش کے مطابق ملزمہ آیوشی کے والد وجے کمار شرما کا ایک سال قبل انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد اس کا اپنی 45 سالہ والدہ نیرج شرما کے ساتھ شدید تنازع شروع ہوا۔ آیوشی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے والد کی جگہ عدالت میں سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی والدہ نیرج شرما نے یہ ملازمت اپنے ذہنی طور پر بیمار بیٹے کے نام کروا دی۔ اس فیصلے پر ماں بیٹی کے درمیان طویل عرصے تک شدید جھگڑے اور ہاتھا پائی ہوتی رہی جس سے تنگ آ کر آیوشی گھر چھوڑ کر ٹونک روڈ پر واقع اپنے چچا کے بیٹے بلرام کے ساتھ ایک الگ مکان میں رہنے لگی۔

قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور سازش

پولیس کے مطابق کلیان نگر کے مکان میں رہائش کے دوران آیوشی اور اس کے چچا زاد بھائی بلرام نے مل کر نیرج شرما کو راستے سے ہٹانے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا۔ قانون کی طالبہ آیوشی اپنی ماں سے شدید نفرت کرتی تھی اور انہیں ایک دردناک موت دینا چاہتی تھی۔ بلرام نے مشورہ دیا کہ اس کام کے لیے پیشہ ور قاتلوں کی ضرورت ہوگی جس پر آیوشی نے آمادگی ظاہر کی مگر شرط رکھی کہ اس کے بیمار بھائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ ماں گھر سے باہر صرف بھائی کو ٹیوشن چھوڑتے وقت ہی نکلتی تھی۔

زمین کا سودا اور سپاری کلنگ کا جال

اس گھناؤنی سازش کے بدلے بلرام نے آیوشی سے بھارت پور میں موجود ہائی وے کی زمین اپنے نام کروانے کا معاہدہ کیا جبکہ جے پور کی جائیداد اور نوکری آیوشی کو ملنی تھی۔ بلرام نے اس فائدے کے لیے اپنے والد موہن کو بھی اس سازش میں شامل کرلیا بعد ازاں بلرام نے اپنے دوست ہیمنت کے ذریعے 7 لاکھ روپے میں سپاری کا معاملہ طے کیا جس نے اپنے رشتہ دار آکاش کے ساتھ مل کر قتل کی حامی بھری۔ اس جرم کے لیے بھارت پور سے ایک کرائے کی گاڑی کا انتظام کیا گیا جس کے لیے جے پور کے ایک انجان نوجوان کی شناختی دستاویزات استعمال کی گئیں تاکہ پولیس کو گمراہ کیا جا سکے۔ ملزمان کا پلان تھا کہ اگر وہ نوجوان پکڑا بھی گیا تو اس کی ضمانت کرا دی جائے گی۔

حادثے کا ڈرامہ اور سی سی ٹی وی کا سچ

ملزمان نے باقاعدہ ریکی کرنے کے بعد 3 جولائی کو اس وقت حملہ کیا جب نیرج شرما اپنے بیٹے کو ٹیوشن چھوڑ کر اکیلی واپس گھر آ رہی تھی۔ سڑک کے کنارے کھڑے نوجوان اور گاڑی میں سوار قاتل مسلسل فون پر رابطے میں تھے اور مخبری ملتے ہی تیز رفتار گاڑی خاتون پر چڑھا دی گئی۔ ایڈیشنل کمشنر پولیس ہری شنکر شرما کے مطابق جائے وقوعہ کے نقشے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ظاہر ہوا کہ یہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھا کیونکہ 120 کلومیٹر کی رفتار سے آنے والی گاڑی کے لیے سڑک کے دائیں جانب کافی جگہ خالی تھی اور سامنے سے بھی کوئی ٹریفک نہیں تھی مگر گاڑی جان بوجھ کر پہلے بائیں جانب گئی خاتون کو کچلا اور پھر دائیں طرف ہو کر فرار ہو گئی۔

پہلی ناکام کوشش اور پولیس ایکشن

تحقیقات میں یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی ہوا کہ ملزمان نے تقریباً تین ماہ قبل بھی بھارت پور سے ایک تھار گاڑی کرائے پر لے کر نیرج شرما کو مارنے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی۔ اس واقعے کے بعد مقتولہ نے اپنے خاندان کے سامنے قتل کیے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا لیکن اہلخانہ نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور صرف محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ اے سی پی ہری شنکر شرما کا کہنا ہے کہ پولیس نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اب تک اس سپاری کلنگ کیس میں 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مفرور مرکزی ملزم بلرام کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert