پنجاب میں ایم اے پاس لڑکیوں کی 8 ہزار تنخواہ؟ ن لیگی ایم پی اے نے کم ازکم تنخواہ کی خلاف ورزی پر اپنی حکومت کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (قدرت روزنامہ) پنجاب میں ایم اے پاس لڑکیوں کی 8 ہزار تنخواہ؟ ن لیگی ایم پی اے نے کم ازکم تنخواہ کی خلاف ورزی پر اپنی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ میڈیا کے مطابق ن لیگی ایم پی اے امجد علی جاوید اسمبلی میں کم ازکم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی پر بول اٹھے۔ ایکس پر ان کے ویڈیو بیان کے مطابق پنجاب میں 80 فیصد بچیاں ایم اے اور ایم ایس سی ہیں، پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے، اسمبلی نے کم ازکم تنخواہ کا جو قانون ہے، جو اسمبلی نے منظور کیا ہے، یہ 8 روپے تنخواہ دینے والے اس قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
پنجاب میں ایم اے، ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو ماہانہ 8 ہزار روپے تنخواہ پر اسکولوں میں رکھا گیا ہے، کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، 8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایا ہو گا۔ MPA ن لیگ امجد علی جاوید pic.twitter.com/fV8nnnS4qr
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) July 20, 2026
8 ہزار روپے تو رکشہ کا کرایہ ہوگا۔
یاد رہے پنجاب حکومت نے بجٹ میں ملازمین کی کم از کم اجرت 40000 روپے کو ریگولیٹ کرنے کا بل منظور کیا ہے، پنجاب حکومت نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور معاشی حقوق کیلئے بڑا قدم اٹھایا۔ اور پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (ترمیمی) ایکٹ 2026 کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔
