مسلح افراد کی ناکہ بندی سے بلوچستان میں شاہراہیں غیر محفوظ، رٹ ختم ہوچکی ہے؛ پشتونخوامیپ

مستونگ کے قریب ژوب کے رہائشی حاجی پائند خان کی گاڑی پر فائرنگ؛ دو خواتین جاں بحق، بچے اور سرپرست زخمی حکومت کی رٹ صرف پریس کانفرنسوں اور پروٹوکول تک محدود ہے


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اگر حکومت امن و امان کے قیام میں ناکام رہتی ہے تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مجروح ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت نہ صرف صوبے کے تمام اضلاع میں جاری بدامنی، دہشت گردی، لاقانونیت، اغواء کاری، قتل و غارت، چوری، ڈکیتی کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی شاہراہوں پر سفر مکمل طور پر غیر محفوظ ہونے پر پارٹی اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے اور ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر عوام کے لیے مکمل طور پر غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ صوبے میں مختلف ناموں سے مسلح افراد کی جانب سے مین شاہراہوں پر ناکہ بندی، بے گناہ شہریوں پر فائرنگ اور لوٹ مار کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ گزشتہ شب مستونگ کے علاقے میں ژوب کلی اپوزئی کے رہائشی حاجی پائند خان اپنی فیملی کے ساتھ علاج کی غرض سے کراچی جارہے تھے جن کی گاڑی پر مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پائند خان کی اہلیہ اور بہو شہید جبکہ پائند خان اور دو بچے شدید زخمی ہوئے۔ اس سے قبل ایک اور واقعے میں ضلع پشین کے ایک ہی خاندان کے چھ افراد اسی نوعیت کی صورتحال کے باعث پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ شاہراہوں پر مسلح افراد کی آزادانہ نقل و حرکت، ناکہ بندیاں اور شہریوں کی جان و مال کو درپیش خطرات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عام عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ شاہراہوں پر مسلح افراد کا گاڑیوں کو روکنے، سواریوں کو اتارنے، انہیں اپنے ساتھ لیجانے، موبائل، نقدی، زیورات و دیگر قیمتی اشیاء کی لوٹ مار اور گاڑیاں و موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔
بیان میں تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ نام نہاد فارم 47 کی حکومت کے ترجمانوں کے دروغ گوئی پر مبنی امن و امان اور ریاستی رٹ مکمل بحال ہونے کے بیانات دراصل احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہیں۔ یہ واضح ہے کہ حکومتی نمائندوں کی ریاستی رٹ صرف سرکاری دفاتر، عمارتوں، پریس کانفرنسز، میڈیا ٹاکس اور درجنوں گاڑیوں پر مبنی سیکیورٹی اور وی آئی پی پروٹوکول تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ان تمام واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پشتون اور دیگر تمام عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے تمام شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے اور شاہراہوں پر مسلح عناصر کے خلاف فوری، مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، کیونکہ دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ حالیہ واقعات میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف، مالی معاونت اور مکمل ریاستی تحفظ فراہم کیا جائے۔
بیان کے آخر میں ژوب کے حاجی پائند خان کے خاندان کے ساتھ غم کی اس گھڑی میں دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert