مستونگ میں ججز پر حملہ حکومتی ناکامی کا ثبوت ہے، وزیراعلیٰ فوری مستعفی ہوں: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

ڈیتھ اسکواڈز اور مسلح گروہ حکومتی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں، اربوں کے سیکیورٹی بجٹ کا کیا جواز ہے؟ شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں؛ مسلط صورتحال کے خلاف تمام سیاسی و جمہوری قوتوں سے متحد ہونے کی اپیل


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد کے زخمی ہونے کے وحشیانہ واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔
جاری کردہ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے مسلسل پراکسیز، حکومتی پروردہ مسلح گروپوں، بھتہ خوروں اور ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے پشتون علاقوں میں دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔ ہنہ اوڑک، زیارت، ہرنائی، دکی اور سنجاوی کے واقعات اسی سلسلے کا تسلسل ہیں جو دراصل حکومتی سرپرستی میں جاری ہیں۔ پارٹی نے تمام سیاسی، جمہوری اور قوم پرست قوتوں و تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام پر مسلط اس صورتحال سے نجات کے لیے دلیرانہ موقف اختیار کریں تاکہ وطن کو ان مسلط قوتوں سے پاک کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مسافر کوچز اور ٹرانسپورٹ پر فائرنگ کے حالیہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ جب ایک عدالتی افسر بھی محفوظ نہیں تو عام شہری، سرکاری ملازم، تاجر، مزدور، مسافر اور طالب علم کے تحفظ کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے؟ نام نہاد امن و امان کے دعووں، سینکڑوں چیک پوسٹوں، ناکوں اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کے باوجود شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، بازار ویران ہیں، کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان پر بھی کڑی تنقید کی جس میں مبینہ طور پر عوام سے اپنی حفاظت خود کرنے کا کہا گیا تھا۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر ریاست شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، تو سالانہ اربوں روپے کے بجٹ پر چلنے والے سیکیورٹی اداروں، ایجنسیوں اور متعلقہ حکومتی ڈھانچے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اس سنگین صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ پشتون عوام اٹھا رہے ہیں جو معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ جانی نقصان کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
بیان کے آخر میں پرزور مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، لہٰذا انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ پارٹی نے مستونگ واقعے کی مکمل انکوائری، ملزمان کو کڑی سزا دینے اور اغوا، بھتہ خوری و ڈکیتی کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز، شہید جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی سیشن جج طارق لاشاری و دیگر کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert