بلوچستان میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال؛ جے یو آئی اور پشتونخواہ نیشنل عوامی پارٹی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

موجودہ سنگین حالات میں تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ناگزیر ہے: رہنماؤں کا اتفاق


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین اور سابق سینیٹر رضا محمد رضا نے جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر اور سینیٹر مولانا عبدالواسع سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران بلوچستان، بالخصوص پشتون علاقوں میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور عوام کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سانحۂ زیارت، سانحۂ ہنہ اوڑک، سانحۂ مستونگ اور صوبے کی مختلف قومی شاہراہوں پر پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات، مسافر گاڑیوں پر دہشت گرد حملوں، بے گناہ شہریوں، خواتین، مسافروں اور سرکاری اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ، افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے یہ واقعات صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار اداروں اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہیں، جبکہ ان کے باعث عوام میں شدید خوف، اضطراب اور عدم تحفظ کا احساس روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ سنگین حالات میں تمام جمہوری، سیاسی، قومی اور عوام دوست قوتوں کا مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے جلد از جلد تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ ایجنڈے کے تحت آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد کی جائے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان، پارلیمانی نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شرکت کریں، تاکہ بلوچستان، بالخصوص پشتون علاقوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی، شاہراہوں کے عدم تحفظ اور عوام کو درپیش دیگر مسائل کا جامع جائزہ لے کر مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جا سکے۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جلد از جلد آل پارٹیز کانفرنس طلب کرینگے۔ تاکہ تمام سیاسی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر امن و امان کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھاسکیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین اور سابق سینیٹر رضا محمد رضا نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس سے مکمل اتفاق کیا اور کہا کہ موجودہ حالات تمام سیاسی جماعتوں، جمہوری قوتوں اور قومی قیادت سے متحد، ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، دہشت گردی کا خاتمہ، آئین و قانون کی بالادستی اور پائیدار امن کا قیام تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں تفصیلی غور و خوض کی جائیگا۔ گفتگو کے اختتام پر سابق سینیٹر رضا محمد رضا اور سینیٹر مولانا عبدالواسع نے حالیہ دہشت گردی اور پرتشدد واقعات میں شہید ہونے والے تمام افراد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی، اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہوئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، پائیدار امن کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تمام جمہوری، سیاسی اور قومی قوتوں کے ساتھ مل کر ہر ممکن سیاسی، جمہوری اور آئینی کردار ادا کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert