کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے عہدے کی اہمیت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)گزشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوج کے چین آف کمانڈ میں اہم تبدیلیاں کی گئیں تھیں۔ اسی ترمیم کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی پوسٹ تخلیق کی گئی تھی تاکہ نیوکلیئر منیجر کا وہ کردار سنبھالا جا سکے جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے پاس تھا۔ یہ عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کر دیا گیا تھا۔
یوں یہ منصب ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور قومی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔
ترمیم کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری اور مدتِ ملازمت میں توسیع چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی سفارش پر عمل میں لائی جاتی ہے۔
سی ڈی ایف بھی ایک نیا عہدہ ہے جو 27ویں ترمیم کے تحت ہی مسلح افواج میں ایک متحد کمانڈ اسٹرکچر کی خاطر قائم کیا گیا تھا۔ ترمیم کی منظوری کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دینے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان آرمی ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری یا مدت ملازمت میں توسیع، یا “اس سلسلے میں مقرر کنندہ اتھارٹی کی جانب سے اختیارات کے استعمال کو کسی بھی عدالت کے سامنے کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جائے گا”۔
