ایرانی پیٹرول کے بعد ایرانی ٹماٹر بھی مارکیٹ میں آگئے

کراچی(قدرت روزنامہ) پاکستان بھر میں ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ایرانی ٹماٹر بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔

تفصیلات کے مطابق باورچی خانے کی سب سے بنیادی ضرورت کہلانے والی سبزی ‘ٹماٹر’ کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں، جس نے عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد ایرانی ٹماٹروں نے بھی مقامی مارکیٹوں کا رخ کر لیا ہے، مگر بڑی درآمد کے باوجود عوام کو مہنگائی سے کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔

کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ٹماٹر 400 سے 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں جبکہ کراچی میں پکے ٹماٹر 500 سے 550 روپے فی کلو جبکہ کچے ٹماٹر بھی 400 روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں۔

کراچی میں خریداروں سے علاقے کے حساب سے من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔

پشاور میں بھی ٹماٹر 400 سے 450 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ لاہور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بھی ایرانی ٹماٹر دستیاب ہونے کے باوجود قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔

ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث کئی گھروں میں اس کے متبادل کے طور پر دہی کا استعمال بڑھ گیا ہے، جبکہ گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ مہنگے ٹماٹر کی وجہ سے روزمرہ کھانے تیار کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اس بحران نے سپلائی چین اور حکومتی کارکردگی پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، تاجروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں درآمدی ایرانی ٹماٹر موجود ہیں، تاہم طلب زیادہ اور رسد محدود ہونے کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں آ رہی۔

دوسری جانب شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

WhatsApp
Get Alert