زیارت کے علاقے زیزری سے شہریوں کی نقل مکانی انتہائی تشویشناک، صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی ناقابلِ قبول ہے ‘پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
مسلح جتھوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ریاستی رٹ کا خاتمہ امن کے لیے سنگین خطرہ، عوام گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام، قیام امن کے لیے فوری آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کا مطالبہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) زیارت کے علاقے زیزری سے عوام کی نقل مکانی انتہائی تشویشناک، حکومت اور ریاستی اداروں کی مسلسل خاموشی ناقابلِ قبول ہے، امن کی بحالی کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع زیارت کے علاقے زیزری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امن و امان کی مسلسل ابتر صورتحال، مسلح جتھوں کی کھلی نقل و حرکت اور ریاستی رٹ کے عملاً خاتمے پر شدید تشویش اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیزری سے شہریوں کی اپنے آبائی گھروں اور علاقوں کو چھوڑ کر نقل مکانی ایک انتہائی افسوسناک اور خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے، جو نہ صرف ضلع زیارت بلکہ پورے صوبے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔
پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جب کسی علاقے کے باشندے اپنی جان، مال، عزت اور مستقبل کے تحفظ سے مایوس ہو کر اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں تو یہ اس امر کا واضح ثبوت ہوتا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے اپنی بنیادی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہو چکے ہیں۔ زیزری کے عوام آج خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کی ایسی کیفیت سے دوچار ہیں جس نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ضلع زیارت میں مسلح جتھوں کی مسلسل موجودگی، ان کی آزادانہ سرگرمیوں اور عوام میں پھیلی ہوئی خوف و ہراس کی فضا کے باوجود وفاقی و صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سیکورٹی ادارے مؤثر اور عملی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ریاستی اداروں کی یہ خاموشی اور غیر مؤثر کردار عوام میں شدید بے چینی، اضطراب اور مایوسی کو جنم دے رہا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ زیزری کا مسئلہ صرف ایک گاؤں یا ایک محدود علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے ضلع زیارت کے امن، استحکام، عوامی سلامتی اور ریاستی رٹ کا امتحان ہے۔ اگر بروقت اس صورتحال کا تدارک نہ کیا گیا تو اس کے منفی اثرات دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر زیزری اور ضلع زیارت کے دیگر متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی، عوام کے جان و مال کے تحفظ، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی واپسی، متاثرین کی امداد اور مسلح جتھوں کی اجارہ داری کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع زیارت کی تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلاء، تاجروں، نوجوانوں، قبائلی عمائدین اور باشعور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ ذاتی، قبائلی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ضلع زیارت کے امن اور عوام کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) یا مشترکہ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ایک متحدہ آواز کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ زیارت کے عوام مزید خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اجتماعی جدوجہد، قومی یکجہتی اور عوامی اتحاد ہی امن، انصاف اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر ایسے جمہوری، آئینی اور پُرامن اقدام کی بھرپور حمایت کرے گی جو ضلع زیارت میں دیرپا امن، عوامی تحفظ اور ریاستی رٹ کی بحالی کا باعث بنے۔
