بلوچستان میں لاقانونیت عروج پر، شہری غیر محفوظ اور حکومت غائب : پشتون اضلاع کی تقسیم نامنظور، محمود خان اچکزئی کی پریس کانفرنس ‘ پشتون قومی جرگہ طلب کرنیکا اعلان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے‘ ملک کے اندرونی حالات کو دیکھ کر شدید تشویش ہوتی ہے، جہاں جمہوری ادارے کمزور، آئینی بالادستی سوالیہ نشان اور عوام شدید بے یقینی کا شکار ہیں ملک میں بظاہر اسمبلیاں اور سینیٹ موجود ہیں، لیکن حقیقی جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوگا جب عوام کی رائے اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے کشمیری عوام کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیںپاکستان کے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کا بھرپور ساتھ دیں اور عالمی برادری کے سامنے ان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کریں ان تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا جائے گا5اگست کو عمران خان کی رہائی جبکہ اکتوبر کے مہینے میں پورے پشتون قوم کا مشترکہ جرگہ بلا کر ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرینگے جو کوئی بھی پشتون علاقوں میں حالات خراب کرنے کا سوچ تک نہ سکے متنازعہ ضلع بنانے کی اجازت دینگے اور نہ اس پر خاموش رہیں گے‘یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘اس موقع پر پارٹی مرکزی سیکرٹری نواب ایا ز خان جو گیزئی‘ مرکزی جنر ل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال‘ صوبائی صدر عبدالقہارخان ودان‘ مرکزی سیکرٹری روف لالا ‘لیاقت آغا‘ ڈاکٹر حامد اچکزئی‘مجید خان اچکزئی‘سید شراف آغا ودیگر بھی موجود تھے‘ محمود خان اچکزئی نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کا بھرپور ساتھ دیں اور عالمی برادری کے سامنے ان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کریںانہوں نے بلوچستان میں اضلاع کی مجوزہ تقسیم پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشتون علاقوں کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو عوام قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی فیصلے عوام کی مرضی، تاریخی حقائق اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کیے جانے چاہئیں۔ اس سلسلے میں 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں عوامی نمائندے، قبائلی عمائدین، سیاسی قائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ جرگے میں عوام کے سامنے تمام معاملات رکھے جائیں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ اجتماعی مشاورت سے کیا جائے گامحمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ ستمبر یا اکتوبر میں پورے پشتونخوا وطن کا ایک بڑا جرگہ بھی طلب کیا جائے گا تاکہ پشتون عوام کو درپیش مسائل، امن و امان، وسائل، زمینوں اور آئینی حقوق کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے‘امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ مسلح گروہوں اور ریاست کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ نہ عوام کی جان محفوظ ہے، نہ عزت اور نہ ہی املاک۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مزدوروں کو اس بے دردی سے قتل کیا گیا جیسے پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے، مگر ان واقعات کی ذمہ داری بھی کسی نے قبول نہیں کی انہوں نے ہنہ اوڑک اور زیارت کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے سانحات کے باوجود کسی متعلقہ ذمہ دار نے استعفیٰ دینا بھی مناسب نہیں سمجھا، جو حکومتی طرزِ عمل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔محمود خان اچکزئی نے منگوچر میں درجنوں گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہری خوف میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ سے لے کر پورے پشتونخوا تک امن کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور لوگ مسلسل خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، مگر بدقسمتی سے عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔زمینوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون علاقوں کی زمینیں دوسروں کو الاٹ کی جا رہی ہیں، جو مقامی آبادی کے حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور اس معاملے پر ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں میں کسی کو قتل کرنے یا املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ہر مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات، جرگوں اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔اپوزیشن لیڈر نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی سفر عوام کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور بعض ایئر لائن کمپنیاں ایک لاکھ روپے تک کرایہ وصول کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب عوام معاشی مشکلات کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو ان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ اس موقع پر ملک بھر میں ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا جائے گا تاکہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون عوام اپنی سرزمین، وسائل اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ آئین، قانون، مکالمے اور عوامی اتفاقِ رائے میں ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ملک کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ حل تلاش کریں۔

WhatsApp
Get Alert