کون آپ کو مشورے دیتا ہے؟ وہ سب سے بڑا بے وقوف ہے، سہیل آفریدی
آؤ عوام کا سامنا کرو، عوام سے اپنا اور اُن چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں کا بھی پوچھو، جس کو بھی تم فارم 47 پر لائے ہو، لوگ آپ کو جواب دیں گے کہ آپ کی کیا پوزیشن ہے؛ پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب

پشاور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے ملک میں جاری سیاسی و معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کون آپ کو مشورے دیتا ہے؟ وہ سب سے بڑا بے وقوف ہے، آؤ عوام کا سامنا کرو، عوام سے اپنا اور اُن چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں کا بھی پوچھو، جس کو بھی تم فارم 47 پر لائے ہو، لوگ آپ کو جواب دیں گے کہ آپ کی کیا پوزیشن ہے، عوام کا سامنا کرنے سے گریز کرنے والی حکومتیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، اس لیے حکمرانوں کو عوام کے درمیان آکر اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔
پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ حکومت نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے، جامعات کی مالی معاونت بڑھا کر 12 ارب روپے کر دی گئی ہے، 2017ء سے 2024ء تک کے تمام پنشن واجبات یکمشت ادا کیے جا چکے ہیں اور 2024ء سے جون 2026ء تک کے بقایا جات بھی جاری کر دیئے گئے، اصلاحات کے نتیجے میں جامعات کا مالی خسارہ 9 ارب روپے سے کم ہو کر 4.5 ارب روپے رہ گیا۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے احساس اسکالرشپ پروگرام بند کیے جانے کے باوجود خیبرپختونخواہ حکومت اسے اپنے وسائل سے جاری رکھے گی، طلبہ کے لیے بلاسود تعلیمی قرضوں، بیرون ملک تعلیم کے لیے خصوصی قرضہ اسکیم اور نئی صوبائی انٹرن شپ پالیسی کا جلد اعلان ہوگا، ہر قومی تحریک میں نوجوانوں نے ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے مگر روزگار اور بہتر مواقع نہ ہونے کے باعث برین ڈرین میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو ملک میں بہتر تعلیمی اور معاشی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وفاق کے پاس معیشت بہتر بنانے کے لیے پیٹرول مہنگا کرنے کے سوا کوئی مؤثر پالیسی نہیں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے قبل ملکی معیشت 6.1 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی، آج جی ڈی پی گروتھ تقریباً 3 فیصد رہ گئی، قومی قرضہ بھی چند برسوں میں 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 76 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخواہ حکومت نے بغیر نئے ٹیکس عائد کیے صوبائی ریونیو 68 ارب روپے سے بڑھا کر پہلے 92 ارب اور پھر 150 ارب روپے سے زائد کر دیا، مالی سال 2025/26ء کے لیے مقرر کردہ 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زیادہ وصولیاں کی گئیں، صوبہ روزانہ 800 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، اس لیے آئین کے مطابق اسے گیس کی فراہمی میں ترجیح ملنی چاہیے، صوبے میں جاری گیس لوڈشیڈنگ ناقابل قبول ہے۔
سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ کشمیر، بلوچستان اور دیگر علاقوں کے مسائل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی اور آئینی طریقہ کار سے حل کیے جانے چاہئیں، 26 نومبر کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور شہداء کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے، ادھر حاجی ٹکا خان بیٹھے ہیں اور حکومتیں تقسیم کر رہے ہیں، لیکن آپ نے اُن سے یہ اختیار لینا ہے کیونکہ یہ عوام کا اختیار ہے، 5 اگست کو ہم نے سیمی فائنل کامیاب کرنا ہے، اس کے بعد پھر بہت جلد فائنل بھی ہوگا، مسلسل ریاستی جبر کے باوجود عمران خان کی مقبولیت برقرار ہے اور عوام ہی ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
