پورے شہر یا وسیع علاقے کو موبائل اور انٹرنیٹ سروس سے محروم کرنا مسئلے کا مناسب حل نہیں، عوام کو غیر یقینی صورتحال میں رکھنے کے بجائے شفاف پالیسی اپنائی جائے: سینیٹر کامران مرتضی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام (ف)سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے نوشکی شہر اور اس کے گردونواح میں موبائل فون اور ڈیٹا سروس کی مسلسل معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سروس کی بندش کی وجوہات عوام کے سامنے لائیں اور موبائل و انٹرنیٹ سروس بلا تاخیر بحال کریں تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اپنے ایک بیان میں سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ نوشکی میں موبائل فون اور ڈیٹا سروس کی بندش نے ہزاروں شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ محض سہولت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، جن کے ذریعے عوام اپنے اہل خانہ، کاروباری اداروں، تعلیمی مراکز، سرکاری دفاتر، بینکنگ نظام اور ہنگامی طبی خدمات سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سروس کی طویل معطلی شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی بلاجواز بندش سے نہ صرف طلبہ کی آن لائن تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ کاروباری طبقہ بھی مالی نقصان اٹھانے پر مجبور ہے۔ آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای کامرس، سرکاری آن لائن خدمات اور دیگر مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث عوام کو غیر ضروری پریشانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ اگر کسی مخصوص علاقے میں سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیے مثر اور ہدفی اقدامات کیے جائیں، تاہم پورے شہر یا وسیع علاقے کو موبائل اور انٹرنیٹ سروس سے محروم کرنا مسئلے کا مناسب حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کو رابطے، معلومات اور اظہارِ رائے جیسے بنیادی حقوق سے محروم کرنا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جدید دور میں مواصلاتی ذرائع زندگی کے ہر شعبے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی بندش سے مریضوں، طلبہ، تاجروں، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹرز، مسافروں اور عام شہریوں سمیت ہر طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ ہنگامی حالات میں شہری اپنے عزیزوں یا امدادی اداروں سے بروقت رابطہ نہیں کر پاتے، جس سے انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں سینیٹر کامران مرتضی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوشکی میں موبائل اور ڈیٹا سروس کی معطلی کے حوالے سے فوری طور پر عوام کو اعتماد میں لیا جائے، بندش کی وجوہات واضح کی جائیں اور اگر سیکیورٹی کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کی مدت اور متبادل انتظامات سے بھی شہریوں کو آگاہ کیا جائے انہوں نے زور دیا کہ عوام کو غیر یقینی صورتحال میں رکھنے کے بجائے شفاف پالیسی اپنائی جائے اور ایسے فیصلوں میں شہریوں کے بنیادی حقوق، کاروباری ضروریات اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اس لیے حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے نوشکی شہر اور گردونواح میں موبائل فون اور ڈیٹا سروس بحال کرے تاکہ شہری مزید مشکلات سے محفوظ رہ سکیں آخر میں سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک جانب امن و امان کو یقینی بنائے اور دوسری جانب شہریوں کے آئینی و بنیادی حقوق کا بھی مکمل تحفظ کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام عوامی مشکلات کا فوری احساس کرتے ہوئے موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert