مکہ معاہدہ ایک دفاعی معاہدہ ہے یہ لڑنے کیلئے نہیں، جاوید چوہدری

ایسا نہیں کہ ترکیہ کسی پر حملہ کر دے گا تو نیوکلیئر پاکستان اُس کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا، اگر کسی ملک پر حملہ ہوجاتا ہے تو یہ تینوں اکھٹے ہو جائیں گے اس کا مطلب یہ نہیں کہ توپیں اور جہاز لے کر آجائیں؛ تجزیہ کار کا تبصرہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف تجزیہ کار جاوید چوہدری نے مکہ معاہدے، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی تعاون پر کہا ہے کہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک دفاعی معاہدہ ہے اور اسے کسی ملک کے خلاف جنگی اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد یہ نہیں کہ اگر ترکیہ کسی ملک پر حملہ کرے تو پاکستان لازماً اپنی فوج یا جنگی ساز و سامان لے کر اس کے ساتھ میدان میں اتر آئے، اگر معاہدے میں شامل تینوں میں سے کسی ایک ملک کو حملے کا سامنا ہوتا ہے تو دیگر ممالک اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تعاون اور اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔


تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس تعاون کی نوعیت لازماً فوجی دستوں، توپوں یا جنگی طیاروں کی فوری روانگی نہیں ہوگی بلکہ سفارتی، سیاسی، دفاعی اور دیگر ذرائع سے اثرانداز ہونے کی صورت میں بھی سامنے آسکتی ہے، اس اتحاد کے پاس ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی، سعودی عرب کے مالی وسائل اور پاکستان کی تربیت و دفاعی مہارت موجود ہے، امریکی ہتھیار بھی خطے کے دفاعی منظرنامے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں، مختلف ممالک کی یہ صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہیں اور خطے میں دفاعی تعاون کو نئی شکل دے سکتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert