وزیراعلیٰ اپنے اختیارات کے دائرہ کار میں اراکین کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، حکومت کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں: پارلیمانی سیکرٹری میر اصغر رند

تربت (ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی پارلیمانی سیکرٹری بلوچستان میر اصغر رند نے کہا ہے کہ ان کی ذاتی رائے کے مطابق موجودہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اپنی وزارتِ اعلی کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی اور وہ پارٹی کے فیصلے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل اور چیلنجز بہت زیادہ ہیں اور صوبے کے تمام معاملات مکمل طور پر درست نہیں ہیں۔ تاہم وزیراعلی سرفراز بگٹی اپنے طریقہ کار کے مطابق معاملات کو سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی اپنے اختیارات کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اراکینِ صوبائی اسمبلی، وزرا اور عوام کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اس لیے انہیں فی الحال وزیراعلی کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی واضح صورتحال نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کابینہ میں وزرا کی تبدیلی یا بعض محکموں میں ردوبدل کیا جائے تاہم ان کے خیال میں مکمل حکومت کی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری انرجی میر اصغر رند نے اپنی رہائشگاہ تربت میں میڈیا بریفننگ کے دوران اپنی ڈھائی سالہ کارکردگی سے سو فیصد مطمئن نہیں۔ تاہم مجموعی کارکردگی اور کی جانے والی کوششوں سے مایوس بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ہی ان کی کارکردگی کے بہتر جج ہیں۔ میڈیا بریفنگ کے دوران میر اصغر رند نے کہا کہ اپنے حلقے میں بجلی، سڑکوں، سولرائزیشن، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اپنی استطاعت کے مطابق متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے گئے ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان اور دیگر دوستوں کے تعاون سے تمپ کو نیا ضلع بنانا ان کیلئے ایک بڑا اعزاز ہے تاہم نئے ضلع کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید محنت اور وسائل درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روڈ سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں بھی کام جاری ہے جبکہ بجلی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کے حل کے لیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ناصرآباد میں بعض ترقیاتی منصوبے زیرِ عمل ہیں اور کوشش ہے کہ باقی منصوبوں پر بھی آئندہ ماہ کام شروع کیا جائے۔ میر اصغر رند نے کہا کہ روزگار اور ترقیاتی شعبے میں وہ سو فیصد مطمئن نہیں، تاہم مایوس بھی نہیں ہیں اور عوام کو روزگار کی فراہمی، نئے ضلع تمپ کی ترقی اور ضلع کیچ کے علاقے کلاتک سے تمپ تک مختلف منصوبوں کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال بی ٹی آئی میں تمپ کے لیے اسکیمیں شامل نہ ہونے پر انہوں نے اعلی حکام اور ڈپٹی کمشنر سے بھی رابطہ کیا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بجٹ میں تمپ سے ناصرآباد اور کلاتک تک کے علاقوں کے لیے بھی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی جائیں گی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ ان کے پی ایچ ڈی پی میں علاقے کے لیے متعدد منصوبے شامل ہیں، جن میں واٹر سپلائی اسکیمیں، ہوم سولر سسٹمز، زرعی سولر منصوبے، ایچ ٹی کھمبے اور ٹرانسفارمرز، تعلیمی و صحت کے اداروں کی عمارات اور کلچر سینٹر سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔ میر اصغر رند نے کہا کہ ایم پی اے فنڈز کے 50 کروڑ روپے سے کوشش کی گئی ہے کہ ہر علاقے اور کم از کم ہر یونین کونسل میں کوئی نہ کوئی ترقیاتی کام نظر آئے۔ ان منصوبوں کا ٹینڈرنگ عمل جاری ہے اور ٹینڈرز مکمل ہونے کے بعد ترقیاتی کام عوام کے سامنے واضح طور پر نظر آئیں گے۔
