پاکستان کے پاس آنے والے وقت میں جے 10سی مینوفیکچرنگ کی سہولت بھی موجود ہوگی

سعودی عرب کی سرمایہ کاری ہوگی تو پاکستان ترکی ڈرونز کی پیدوار بڑھا سکتے ہیں، ترکی ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز جبکہ پاکستان جے ایف 17 تھنڈ کی پیدواری صلاحیت رکھتا ہے، خرم دستگیر


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)مسلم لیگ ن کے رہنماء خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس آنے والے وقت میں جے 10سی مینوفیکچرنگ کی سہولت بھی موجود ہوگی۔ انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کھولنے اور اس کو اوپن برقرار رکھنے کیلئے اپنی عسکری طاقت استعمال کرنے کو تیار نہیں ہے،اسی طرح عرب ممالک میں اس کے جو حواری ہیں ان کے تحفظ کیلئے بھی عسکری طاقت استعمال کرنے کو تیار نہیں ہے یہ نئی حقیقت ہے۔
1990کی عراق وارجو کویت کو آزاد کرنے کیلئے لڑی گئی ، اس کے نتیجے میں یا فوری بعد سویت یونین تحلیل ہوا۔اب اس نیوورلڈ آرڈر کو ہم اپنی آنکھوں سے ختم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پھر کہا جاتا تھا کہ مشرق وسطیٰ پر امریکا کی دفاعی چھتری تنی ہوئی ہے، اس چھتری کے چیٹھڑے اڑ گئے ہیں۔
امریکا کی اسرائیل کو خطے کو تھانیدار بنانے کی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔
دو مسلم ممالک جن دفاعی صلاحیت اپنی ہے وہ ایسے عرب ملک کے ساتھ ملے ہیں جس کی سب سے بڑی مالیاتی اور تیل کے ذخائر ہیں، پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب جیسی معاشی طاقت سے ملنا نہایت خوش آئندہ ہے۔تینوں ملکوں کی قیادت کیلئے ٹیسٹ ہے ، لیکن مستقبل میں کیسے تعلقات میں گہری لاتے ہیں۔ امید ہے دونوں ممالک سے معاہدہ پاکستان کی معیشت کیلئے بہت بڑا فائدہ ہوگا۔
توقع ہے کہ سعودی عرب سے سرمایہ کاری حاصل ہوتی ہے تو پاکستان اور ترکی ڈرونز کی پیدوار صلاحیت بڑھا سکتے ہیں، ترکی کے پاس ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز اور پاکستان کے پاس جے ایف 17 کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ رئیر ایڈمرل (ر) فیصل شاہ نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا یکجا ہونا کثیر الجہتی معاہدہ ہے، کسی بھی ملک کو ان تین ممالک کیخلاف جارحیت کرنے سے پہلے سوچنا پڑے گا، کسی بھی ملک کیخلاف جارحیت تینوں ممالک کیخلاف جارحیت تصور ہوگی۔ سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ معاہدے سے ڈیفنس ٹیکنالوجی اور معیشت میں بہتری آئے گی، چین کے ساتھ ڈیفنس پروڈکشن کا بھی معاہدہ ہونا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert