پاکستان میں سرمایہ کاری آ رہی ہے، ادارے پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، طلال چوہدری

کبھی کہتے ہیں سی سی ٹی وی فوٹیج دو، بھائی بھرا بازار ہے، کئی لوگوں نے یہ منظر دیکھا ہے، یہ حساس علاقہ ہے، کوئی ایسی چیز نہیں دی جائے گی جس سے تفتیش متاثر ہو؛ وزیرمملکت برائے داخلہ کی پریس کانفرنس


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری آرہی ہے اور اداروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ایسے عناصر کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، ایک سیاسی کارکن نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں مارا گیا، اس واقعے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور تحریک انصاف کے کارکنوں اور قیادت کو بارہا کہا گیا ہے کہ نفرت اور انتشار کی سیاست سے گریز کریں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے راولپنڈی فائرنگ واقعے سے متعلق کہا کہ کبھی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لیکن یہ حساس علاقہ ہے اور واقعہ بھرے بازار میں پیش آیا جہاں کئی لوگوں نے اسے دیکھا، تفتیش کو متاثر کرنے والی کوئی ایسی چیز فراہم نہیں کی جائے گی۔
وزیرمملکت برائے داخلہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لوگ اس واقعے سے یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے کہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا یا متعلقہ شخص کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، اگر اس شخص کا ذہنی توازن درست نہیں تھا تو اس نے اپنے گھر والوں یا پارٹی کے کسی فرد پر حملہ کیوں نہیں کیا اور خود کو نقصان کیوں نہیں پہنچایا؟ مذکورہ شخص نے اسی ادارے کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں اس کے ذہن میں نفرت پیدا کی گئی تھی اور اس کے پاس پی ٹی آئی کا جھنڈا بھی موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی فائرنگ واقعے کی ذمہ داری صرف پاکستان تحریک انصاف پر نہیں بلکہ بیرون ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز پر بھی عائد ہوتی ہے، ایسے یوٹیوبرز کا مقصد صرف ویوز حاصل کرنا، پیسے کمانا اور نوجوانوں کے ذہنوں میں اشتعال پیدا کرنا ہے، تحریک انصاف آہستہ آہستہ خود کو مائنس اور غیر متعلقہ کر رہی ہے، اسمبلیاں توڑنا، استعفے دینا، 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات سیاسی کارکنوں کو پارٹی سے دور کرنے کا باعث بنے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اس واقعے کی ذمہ دار صرف پاکستان میں موجود تحریک انصاف کی قیادت ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر بیٹھے وہ یوٹیوبرز بھی ہیں جو مبینہ طور پر آگ سے کھیل رہے ہیں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت اور اشتعال پیدا کر رہے ہیں، مذکورہ کارکن خیبرپختونخواہ ہاؤس اسلام آباد میں قیام کرتا رہا اور مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا، اگر وہ اتنا ذہنی طور پر غیر متوازن تھا تو اسے جلسوں میں فرنٹ لائن پر کیوں رکھا جاتا تھا؟ کیا نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟۔

WhatsApp
Get Alert