دہشتگردوں کی پشت پناہی بھارت اور افغانستان سے کی جارہی ہے، یہ حقوق کی جنگ نہیں: وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو

قلات سے واپسی پر میری گاڑی پر سنائپر سے ٹارگٹ کرنے کی کوشش اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی، پولیس مقابلے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے


دہشتگردوں کا تعلق بلوچ قوم سے نہیں، وہ زمینداروں سے بھتہ لیتے ہیں اور عوام سے سہولیات چھین رہے ہیں
بلوچستان کا کوئی علاقہ نوگو ایریا نہیں، دہشتگرد قومی شاہراہوں پر موجود ہیں، قبائلی تنازعے میں 6 خواتین کے قتل پر سخت کارروائی ہوگی
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی پشت پناہی بھارت اور افغانستان سے کی جارہی ہے، دہشتگرد کوئی حقوق اور آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ ان کی لیڈر شپ یرغمال ہے۔ یہ بات انہوں نے معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
وزیر داخلہ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حلقے قلات میں جشن آزادی منانے گئے تھے۔ قلات میں تمام اداروں سے میٹنگز ہوئیں اور جشن آزادی کی مختلف تقریبات میں شرکت کی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن سے اپیل پر انہیں ہیلی کاپٹر فراہم کیا گیا تاکہ وہ اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ جشن آزادی منا سکیں۔ میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ میں نے ساتھ کوئی سیکیورٹی نہیں اٹھائی تھی اور جب میں کچھ دوستوں اور صحافیوں سے ملاقات کر کے باہر نکلا اور قلات سے بنا اسکواڈ کے کوئٹہ آرہا تھا تو کچھ شرپسند عناصر نے میری گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی اور مجھے سنائپر سے ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی جس سے اللہ نے مجھے بچا لیا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران پولیس کے جوانوں نے دہشتگردوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ پولیس کی ایک گاڑی مسلح افراد کے گھیرے میں تھی جس پر مستونگ ایف سی، اے ٹی ایف اور پولیس نے بروقت کارروائی کی۔ مسلح افراد کے اس حملے اور پولیس مقابلے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے بھرپور انداز میں جشن آزادی منائی ہے اور میں جشن آزادی کے پرامن انعقاد پر سیکیورٹی فورسز کو ان کے بہترین انتظامات پر شاباش دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد خواتین کی تذلیل کرتے ہیں، بلوچ قوم نے بہت کچھ برداشت کر لیا ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا تعلق بلوچ قوم سے نہیں بلکہ بھارت سے ہے۔ دہشتگرد مقامی زمینداروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب خالق آباد اور قلات میں کوئی ایمبولینس موجود نہیں تھی، ہم نے وہاں 30 سے 35 ایمبولینسز فراہم کیں، لیکن آج مسلح افراد عوام سے ان کی یہ بنیادی سہولیات بھی چھین رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر کی تصویر دیکھی، وہ کسی عام انسان جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچ نوجوانوں کو بہکایا جا رہا ہے، اب بلوچ قوم کو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے خود سوچنا ہوگا۔
امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ ‘نوگو ایریا’ نہیں ہے، البتہ قومی شاہراہوں پر دہشتگردوں کی موجودگی ایک حقیقت ہے۔ پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں نے صوبے میں قبائلی تنازعے کے نتیجے میں 6 خواتین کے قتل کے افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ہر صورت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert