رشتے سے انکار پر کزن کا گھر میں گھس کر تشدد، زبردستی نکاح اور اغوا کی کوشش؛ کوئٹہ کی رہائشی اسماء امان اللہ کی پریس کانفرنس

مولوی کے انکار پر ملزمان نے اغوا کر کے زیادتی کی کوشش کی، چیک پوسٹ پر ایف سی اہلکاروں نے بچایا: متاثرہ خاتون کا الزام


میرا قصور صرف رشتے سے انکار تھا، ملزمان سے جان کا خطرہ ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان فوری تحفظ اور انصاف فراہم کریں: اسماء کی روتے ہوئے اپیل
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) قمبرانی روڈ کی رہائشی اسماء امان اللہ نے اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 13 اگست کی شب ان کے کزنز نے گھر میں داخل ہو کر انہیں مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسماء امان اللہ کے مطابق واقعے کی بنیادی وجہ رشتے سے انکار تھی۔اسماء امان اللہ نے کہا کہ خدا بخش نے رشتے سے انکار پر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور زخمی کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے زبردستی نکاح کی کوشش بھی کی، تاہم مولوی نے نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد انہیں مبینہ طور پر باندھ کر اغوا کرنے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

اسماء کے مطابق انہیں گاڑی میں زبردستی لے جایا جا رہا تھا کہ ایک چیک پوسٹ پر ایف سی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔اسماء امان اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تعلیمی اسناد سمیت تقریباً 65 لاکھ روپے مالیت کا سامان بھی لے جایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے میں خدا بخش، سراج، رفیق اور دیگر خالہ زاد مبینہ طور پر ملوث ہیں۔متاثرہ خاتون نے کہا کہ تشدد کے باعث وہ اس قدر زخمی ہوئی ہیں کہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ملزمان اب بھی انہیں نقصان پہنچانے کے لیے تلاش کر رہے ہیں، جس کے باعث وہ خفیہ مقام پر رہنے پر مجبور ہیں۔اسماء امان اللہ نے روتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں نے رشتے سے انکار کیا۔ میری عزت کو پامال کیا گیا، مجھے تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔‘‘انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert