عمران خان کی بیرون ملک روانگی سے متعلق میں کسی قسم کی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر آئندہ الیکشن کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، یہ معاملہ آئندہ انتخابات سے پہلے ہی طے ہو جائےگا۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے قانونی راستے ہمیشہ موجود ہوتے ہیں، یہ کہنا کہ کوئی فیصلہ بالکل قابل قبول نہیں ایسا نہیں ہوتا۔
اس فیصلے کا تاریخی پس منظر بھی ہے۔ پانچ سال پہلے مسلم لیگ نواز اپنے لیڈر کے لیے عدالتوں میں تھی، اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، صدر زرداری کی جیل یہ سب اسی ملک میں ہوتا رہا ہے۔ عمران خان نے اپنے دور میں ہر چیز کا تمسخر اڑایا، پنکھا اتار دوں گا، ٹی وی ہٹا دوں گا، ایسا کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔
اب وزارت قانون اس کا قانونی رد عمل دے گی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی بیرون ملک روانگی سے متعلق میں اس پر کسی قسم کی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا، یہ معاملات عدالتوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ایسا کوئی بھی بیان غیریقینی صورتحال کو بڑھاوا دیتا ہے۔ میری اپنی مصدقہ اطلاعات کے مطابق عمران خان کی آنکھ اب مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے، ان کی صحت قابل رشک ہے، اسپتال میں ان کو مزید دیکھا بھی جا سکتا ہے۔
اگر عمران خان کی بہنوں نے کوئی انڈر ٹیکنگ دی ہے تو وہ نظر آ رہی ہے اور پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان سے ملاقات پر بات کرنے سے مکمل گریز کیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، کوئی ایسی بات نہیں کہ کوئی دراڑ آ گئی ہے، نظام فیل نہیں ہوا، پیپلز پارٹی اگر حکومت کی حمایت سے پیچھے ہٹ جاتی ہے تو بھی حکومت کے پاس سادہ اکثریت موجود ہے۔
پاکستان میں بہت کچھ ہوتا رہا ہے جو اب نہیں ہو رہا۔ پنجاب حکومت بہترین کارکردگی انداز سے آگے بڑھ رہی ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، موٹرویز بن رہی ہیں، اسکول کالجز کے کام ہو رہے ہیں، سب ہو رہا ہے، نظام کہاں فیل ہوا ہے۔ پاکستان کے ہر صوبے میں ایک بہترین، طاقتور اور قابل عمل مقامی حکومتوں کے نظام کی ضرورت ہے تاکہ شہر خود پیسہ اکٹھا کر کے اپنے کام کرسکیں وہ کیوں وفاق اور صوبے کی طرف دیکھیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر آئندہ الیکشن کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، یہ معاملہ آئندہ انتخابات سے پہلے ہی طے ہو جائے گا۔ یہ ایک تعمیری بحث ہے جس کا کوئی نا کوئی نتیجہ نکلنا چاہیے۔ اگر طاقت کا کچھ حصہ انتظامی یونٹس کو یا اضلاع کو جائے اور نئے انتظامی یونٹس سامنے آ جائیں تو اس میں کیا برا ہے، اس وقت عوام کو خدمات کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے، پورے پاکستان میں لوگوں کو شکایتیں ہیں۔
ہمیں سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر بڑی محنت ہوئی سب نے ایوارڈز بھی لے لیے مگر جن چیزوں پر اتفاق کیا گیا بدقسمتی سے ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا،،، آئین میں بلدیاتی نظام درج ہے مگر اس کی روح پر عمل درآمد ہی نہیں کیا گیا۔ آج ہم اسٹیٹس کو کے خالق بنے ہوئے ہیں، اگر ہم نچلی سطح تک اختیار اور طاقت کی منتقلی کر دیتے تو آج بحث کی ضرورت ہی نا پڑتی۔ اگر سیاست دان خود چیزوں کو ویسے نہیں دیکھیں گے جیسے دیکھنا چاہیے تو کہیں نا کہیں سے رائے بھی آئے گی اور نشاندہی بھی ہوگی۔
