عدالتی احکامات ردی کی ٹوکری میں پھینکنے سے ملک ‘بنانا ریپبلک’ بن چکا، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں دھوکہ کیا گیا: شاہد خٹک

نواز شریف اور زرداری کے لیے علاج کی تمام سہولتیں، لیکن 25 کروڑ عوام کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروائے ورنہ عوام بغاوت پر اتر آئیں گے: تحریک انصاف کے رہنما کا قومی اسمبلی میں گرما گرم خطاب


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہد احمد نے ایوان میں گرما گرم تقریر کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں سپریم کورٹ اور عدالتوں کے فیصلے نہ مانے جائیں، وہ عملی طور پر ‘بنانا ریپبلک’ (جنگل کا قانون) بن جاتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان آج اسی نہج پر پہنچ چکا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہد احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین معزز ججز نے واضح حکم دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کروایا جائے، ہم نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کوئی سیاسی تماشا نہیں لگایا۔ لیکن رات کی تاریکی میں عوام اور عدالت کے ساتھ دھوکہ کیا گیا، عمران خان کو شفا کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا اور محض ایک گھنٹے کی ڈرامہ بازی کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے اسے پوری عدلیہ اور سپریم کورٹ کی کھلی توہین قرار دیا۔
انہوں نے حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ماضی کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے علاج کی بات آتی تھی، تو ان کے لیے اسپیشل آئی سی یو بنائے جاتے تھے، انہیں پرائیویٹ اسپتالوں اور لندن تک بھیجنے کی سہولت دی جاتی تھی۔ لیکن آج پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے مقبول ترین لیڈر کو، جو 25 کروڑ عوام کے دلوں میں بستا ہے، اس کے جائز اور بنیادی حقِ علاج سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
شاہد احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلوں کی عملداری یقینی بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طاقتور اشرافیہ اسی طرح عدالتی احکامات کو پیروں تلے روندتی رہی اور عدالتیں ان پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہیں، تو عوام کا صبر جواب دے جائے گا اور ملک میں بغاوت پھوٹ پڑے گی۔
پی ٹی آئی رہنما نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر یہ صرف سیاسی مقابلہ ہوتا تو عوام کی طاقت سے ہم ان حکمرانوں کو “کچا چبا جاتے”، کیونکہ قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم، ان کی تقریر کے اختتام پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ہلکے پھلکے انداز میں ان کے جملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس “کچا چبانے” والے لفظ کو کارروائی سے حذف کریں یا نہیں، کیونکہ کچا کھانا تو ویسے بھی حرام ہوتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert