اپوزیشن جماعتیں بلاول بھٹو کو ساتھ ملا کر شہبازشریف حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق رائے بن رہا ہے کہ بلاول بھٹو کو ساتھ ملا کر شہبازشریف حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سیدھی سیدھی انتقامی کارروائی ہے، جب عمران خان وزیراعظم تھے تو نوازشریف ، شہبازشریف سب جیل میں تھے، آج شہبازشریف نہیں چاہتے وہ باہر ہوں۔
شفا ہسپتال کے باہر اتنے بھی کارکنان نہیں تھے کہ عمران خان کو وہاں نہیں لے جایا جاسکتا تھا۔ حکومت کو توہین عدالت کی کاروائی کا کوئی ڈر نہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ زمانہ گیا جب یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت میں نااہل کردیا تھا، اب دنیا بدل چکی ہے، 26 اور 27 ترمیم کے بعد عدالتیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
وہ اپوزیشن پارٹیاں جو ابھی تک تحریک انصاف کے ساتھ نہیں تھیں وہ بھی تحریک انصاف کے ساتھ آ جائیں گی، سوموار کو اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہورہا ہے، پیپلزپارٹی بھی صلاح مشورے کررہی ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، اکثریت کی رائے یہ ہے کہ ہمیں حکومت کا ساتھ چھوڑ دینا چاہیے، جتنی بھی قربانی دینی پڑتی ہے دے دیں، جس طرح شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو اور باقی کے ساتھ مل کر عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی، اب اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق رائے بن رہا ہے کہ بلاول بھٹو کو ساتھ ملا کر شہبازشریف حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔
مجھے لگ رہا ہے کہ حالات خراب ہوں گے اور حکومت نقصان اٹھائے گی، یقینی طور پر پی ٹی آئی کا بھی نقصان ہوگا لیکن حکومت کا بھی نقصان ہوگا۔
