ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ گھر تقسیم کرنے کی بات کررہے ہیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ گھر تقسیم کرنے کی بات کررہے ہیں، 2صوبوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کب تک خاموش رہیں؟ کب تک مصلحت کا شکار رہیں؟جو بیانیہ سرکار بنارہی وہ غلط ہے، حالات بہتر نہیں اسی لیے معیشت متاثر ہورہی ہے، موجودہ حالات میں صوبوں کی باتیں سمجھ نہیں آرہا ، نئے صوبوں کی باتیں کس امید پر کی جارہی ہیں؟ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ گھر تقسیم کرنے کی بات کررہے ہیں۔
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ قوم تک حقائق پہنچائیں گے، اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی کا فیصلہ کیا ہے، 2صوبوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں بس تسلیاں دی جارہی ہیں، حکومت کی کوئی پالیسی اور کامیابی نظر نہیں آرہی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا، کل توہین عدالت کی پٹیشن دائر کریں گے، فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی سپریم کورٹ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، دو دن ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے بعد آج قوم کیلئے بوجھل دن تھا۔
انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج قومی اسمبلی میں عمران خان کی صحت کے ایشو کو اٹھایا ہے، دو دن ٹھنڈی ہواؤں کے چلنے کے بعد آج پوری قوم کیلئے بوجھل دن تھا، ہمیشہ کوشش کی کہ سسٹم چلے اور ہم سسٹم کا حصہ رہیں، اپنے لیڈر کیلئے آواز اٹھائیں، ہمارے ہزار تحفظات کے باوجود عدالتوں میں گئے، پچھلے 10مہینے سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، کس قانون کے تحت ملاقات کی اجازت نہیں ہے؟راتوں رات ٹرائل ہوتا رہا، 100سال کی سزائیں ہوئیں، 25مرتبہ ہائیکورٹ اور 17مرتبہ سپریم کورٹ گئے، سپریم کورٹ نے شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، اس کی بہن اور ذاتی معالج میڈیکل بورڈ کا حصہ ہو، جب تک علاج اور ٹیسٹ ہوں اس وقت تک وہ ہسپتال میں رہیں گے۔
16 ستمبر کی تاریخ سپرکورٹ نے خود مقرر کی تھی۔ لیکن پچھلی رات جو کچھ ہوا یہ بڑی بدقسمتی ہے، جس نے بھی کروایااس کی مذمت کرتے ہیں، ہم کوشش کرتے ہیں کہ جمہوریت پٹری پر رہے، لیکن کوئی کوشش کررہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ سے باہر آئیں، ہم حکومت کی بی ٹیم نہیں ہے ہم عمران خان کے ووٹ سے آئے ہیں۔یہ حکم تین ججز نے دیا، سپریم کورٹ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس پر کوئی نظر ثانی نہیں ہوسکتی، عدالت سے درخواست ہے کہ اس حکم پر عملدرآمد کرایا جائے، پچھلی رات جو کچھ ہوا، اس پر حکومت کیخلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر کریں گے۔آج بھی 90فیصد لوگ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
