پنشنرز گھر بیٹھے اپنا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ انتہائی آسان طریقہ کار سامنے آگیا

کراچی(قدرت روزنامہ) نادرا نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے انتہائی آسان اور مفت اجراء کی سہولت فراہم کر دی ، جس کے زریعے وہ گھر بیٹھے اپنا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
نادرا نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف، یعنی تصدیقِ حیات کا سرٹیفکیٹ، مکمل طور پر بلا معاوضہ فراہم کرنے کا انتظام کر دیا ہے۔
یہ سہولت اب پاک آئی ڈی موبائل ایپ، نادرا رجسٹریشن مراکز، یونین کونسلز، ای سہولت فرنچائزز اور نادرا کی موبائل سروسز کے ذریعے ملک بھر میں دستیاب ہے۔
یہ اقدام وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات، وزارتِ دفاع، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی) کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔ اس کا خاص مقصد بزرگ، صاحبِ فراش اور خصوصی افراد سمیت ایسے پنشنرز کو سہولت دینا ہے جن کے لیے پروف آف لائف کی متواتر ضرورت پوری کرنے کے لیے بینک یا پنشن دفتر جانا مشکل ہوتا ہے۔
اس سہولت کے حصول کا سب سے آسان طریقہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ ہے جس کے ذریعے اہل پنشنرز گھر بیٹھے اپنا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
جو پنشنر خود پاک آئی ڈی استعمال نہیں کر سکتے، ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعے شناختی تصدیق کی طے شدہ کارروائی مکمل کرکے پنشنر کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔
جو پنشنرز معاونت کے ساتھ یہ سہولت حاصل کرنا چاہیں، ان کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد ای سہولت فرنچائزز پر بھی بلا معاوضہ دستیاب ہے۔
پنشنرز نو سو اٹھاسی سے زائد نادرا رجسٹریشن مراکز اور پانچ سو یونین کونسلز سے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں، جہاں انہیں معمول کی قطار میں انتظار کے بغیر ترجیحی بنیاد پر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایسے پنشنرز جو کسی سروس پوائنٹ تک بآسانی نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے یہی سہولت نادرا کی موبائل رجسٹریشن وینز، بائیکر سروس اور مین پیک سروس کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔ اس طرح محدود نقل و حرکت یا رسائی رکھنے والے افراد بھی پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
پروف آف لائف سروس ایک وسیع تر اصلاحاتی اقدام کا حصہ ہے، جس کے تحت نادرا نے نیشنل پنشنرز رجسٹر قائم کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں سی جی اے اور ایم اے جی کے زیرانتظام پنشنرز کو اس رجسٹر میں شامل کیا گیا ہے، جس سے پنشنر کی شناخت اور اس کی حیات کی حیثیت کی تصدیق کے لیے ایک مستند ڈیجیٹل حوالہ میسر آ گیا ہے۔
نیشنل پنشنرز رجسٹر کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ پنشنرز یا ان کے خاندانوں کو ایک ہی واقعے کی اطلاع بار بار مختلف اداروں کو دینے کی ضرورت نہ رہے، اگر کسی بنیادی یا ثانوی پنشنر کی وفات کسی صحت مرکز کی جانب سے نادرا کے ڈیتھ نوٹیفکیشن ٹول کے ذریعے رپورٹ ہو یا سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) میں درج کی جائے تو نادرا متعلقہ پنشن کنٹرولر کو اس کی روزانہ کی بنیاد پر ڈیجیٹل اطلاع فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح ثانوی یا فیملی پنشنرز کی اہلیت پر اثرانداز ہونے والی تبدیلیاں، جن میں متعلقہ قواعد کے تحت عمر یا ازدواجی حیثیت کی شرائط شامل ہیں، اگر نادرا کے رجسٹریشن ریکارڈ میں ظاہر ہوں تو ان کی اطلاع بھی متعلقہ پنشن کنٹرولرز کو روزانہ کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ پنشن جاری رکھنے، اس میں تبدیلی یا اسے بند کرنے کا فیصلہ قابلِ اطلاق قواعد کے تحت متعلقہ مجاز پنشن اتھارٹی ہی کرتی ہے۔
نادرا نے بینکوں کے لیے بھی ایک علیحدہ تصدیقی سروس فراہم کر دی ہے جس کے ذریعے مجاز بینک نیشنل پنشنرز رجسٹر سے کسی پنشنر کا پروف آف لائف اسٹیٹس براہِ راست چیک کر سکتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں ضروری معاہدوں اور ادارہ جاتی انتظامات کی تکمیل کے بعد نیشنل پنشنرز رجسٹر کو دیگر وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں، پبلک سیکٹر اداروں اور نجی اداروں کے پنشنرز تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
یہ مربوط نظام پنشنرز کے لیے پروف آف لائف کی شرط پوری کرنا آسان بناتا ہے، جبکہ پنشن کنٹرولرز اور بینکوں کو زیادہ تازہ، مستند اور تصدیق شدہ معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے
