27 ستمبر کا لانگ مارچ ہوگا، فیصلہ برقرار ہے، بھرپور عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، اسد قیصر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مارچ کامیاب ہو اور اسے بھرپور عوامی تائید حاصل ہو، اس کے لیے ہم جدوجہد کریں گے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے ساتھ جو ڈراما کیا، وہ آپ کے سامنے ہے۔ سپریم کورٹ کا واضح حکم تھا، اس میں کوئی ابہام بھی نہیں تھا، کہ انہیں الشفاء ہسپتال، اسلام آباد منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے مکمل طبی معائنے کے لیے باقاعدہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اور وہ بورڈ فیصلہ کرے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا سب سے پہلے بات تو یہ ہے کہ ہمیں حقِ حکمرانی نہیں دیا جا رہا۔ صوبے کی جتنی بڑی انتظامی پوزیشنز ہیں، چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس، ان کی تعیناتی میں صوبائی حکومت سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا جو بھی فیصلہ کرتے ہیں، وفاقی حکومت اس میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ آپ کو اپنے آئینی اور قانونی حقوق نہیں دیے جا رہے۔ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں اس کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ پچھلے سال 153 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کا این ایف سی میں حصہ 14 فیصد کے بجائے 19 فیصد بنتا ہے۔ ریاست نے فاٹا انضمام کے وقت سالانہ 1000 ارب روپے دینے کا جو وعدہ کیا تھا، اس پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا۔
اسد قیصر کا کہنا ہے خیبر پختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ کس وجہ سے پیدا ہوا۔ پولیس کے اندر اتنی صلاحیت موجود ہے کہ اگر اندرونی معاملات ہوں تو وہ انہیں حل کر سکتی ہے۔ جب آپ کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو وہ وفاق کی حدود میں آ جاتے ہیں۔ ہم نے وفاقی حکومت سے ہمیشہ کہا کہ امن و امان کے معاملے پر اکٹھے بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے۔ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی، وفاقی حکومت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
