بلوچستان اسمبلی: امن و امان پر گرما گرم بحث، ان کیمرہ اجلاس بلانے کا متفقہ مطالبہ ‘ دہشت گردی کا خاتمہ مستونگ کو خالی کرانے سے نہیں ہوگا، ناراض عناصر سے مذاکرات کیے جائیں: اپوزیشن

جوابات دو دو سال تک نہیں ملتے، وزرا غائب رہتے ہیں، وقفہ سوالات ہی ختم کر دیا جائے: ارکان اسمبلی کی تنقید


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ایوان نے مشترکہ طور پر منظور کرلیا۔ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان امن و امان کی صورتحال پر گرما گرم بحث ہوئی، جبکہ ارکان اسمبلی نے دہشت گردی کے خاتمہ، ناراض سیاسی جماعتوں اور تمام متعلقہ فریقین سے مذاکرات، روزگار کی فراہمی اور امن و امان کے مسئلے پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت 40 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس میں مختلف محکموں سے متعلق سوالات، توجہ دلا نوٹسز، قراردادوں اور قانون سازی پر غور کیا گیا۔ وقفہ سوالات کے دوران اراکین نے محکموں کی جانب سے سوالات کے بروقت جوابات نہ ملنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔رکن اسمبلی زابد ریکی نے کہا کہ اسمبلی میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دو، دو سال تک نہیں ملتے، جبکہ اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے کہا کہ جن وزرا کے جوابات ہوتے ہیں وہ ایوان میں موجود نہیں ہوتے، اگر جوابات نہیں دینے تو وقفہ سوالات ہی ختم کردیا جائے۔ اسپیکر نے رولنگ دی کہ آئندہ محکموں سے متعلق سوالات کے جوابات ایک ہفتے کے اندر موصول ہونے چاہئیں۔امن و امان پر بحث کرتے ہوئے زابد ریکی نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے لیے اپنے گھروں کو جانا مشکل ہوگیا ہے اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود امن و امان قائم نہیں ہورہا، جبکہ جمعیت علما اسلام کے کئی رہنما شہید ہوئے لیکن ان کے قاتل گرفتار نہیں ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انسانوں کا خون بہہ رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے اور صوبے کی ناراض سیاسی جماعتوں، نوابوں، سرداروں اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ بجلی، گیس اور پانی سے زیادہ جینے کا حق مانگ رہے ہیں، صوبے میں روزانہ بچے اور نوجوان مارے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم محب وطن ہیں اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں، حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرکے امن و امان کے مسئلے پر سنجیدہ مشاورت کرے۔اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے کہا کہ مستونگ کو خالی کرنے اور کھڈکوچہ کے باغات ختم کرنے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں دہشت گرد موجود ہیں وہاں کارروائی کی جائے اور عام لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ انہوں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔صوبائی وزیر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات ماضی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پلوں کو اڑانے سے آزادی حاصل نہیں ہوسکتی، جبکہ صوبے کی اکثریت آزادی کی خواہش مند نہیں۔ انہوں نے بھی امن و امان کے معاملے پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کی حمایت کی۔وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ بلوچستان حکومت امن و امان کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے، تاہم جب تک تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش نہیں کریں گی، مشکلات برقرار رہیں گی۔رکن اسمبلی سید ظفر آغا نے کہا کہ ایوان میں سچ بولنا چاہیے اور ان کیمرہ اجلاس میں صوبے کی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ انہوں نے سرانان تھانے پر حملے کی مذمت کی۔رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی کوئی شاہراہ محفوظ نہیں، اس لیے امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال نئی نہیں، ماضی میں بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کے لیے فراہم کی جانے والی ایمبولینسز بھی چھینی جارہی ہیں اور صوبے کے ہر علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کو صرف بے روزگاری سے جوڑنے کو درست قرار نہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو کون بھرتی اور اسلحہ فراہم کررہا ہے، اس حوالے سے صورتحال واضح کرنے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں بلوچستان میں تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی سے متعلق قرارداد بھی پیش کی گئی۔ رکن اسمبلی شاہدہ رف نے خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے قرارداد پیش کی، جس میں ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ پیش آنے والے تیزاب گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مثر قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا۔وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ تیزاب گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور صوبائی حکومت جلد اس حوالے سے قانون اسمبلی میں پیش کرے گی۔ ایوان نے قرارداد کو مشترکہ قرارداد قرار دیتے ہوئے منظور کرلیا۔ اس موقع پر بعض اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ایوان کی صورتحال کشیدہ ہوگئی، بعدازاں خواتین اراکین اسمبلی نے ڈاکٹر ماہ نور سے اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے ہوکر یکجہتی کا اظہار کیا۔اجلاس میں صوبے میں امن و امان یقینی بنانے، دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائی اور دہشت گرد عناصر و ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے سے متعلق قرارداد بھی زیر بحث آئی۔ رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر مثر عملدرآمد کے لیے پیش کی گئی قرارداد بلوچستان اسمبلی نے منظور کرلی۔اجلاس میں تولیدی صحت کی دیکھ بھال کے حقوق کے تحفظ و فروغ، سیف ہومز کی تعمیر اور بلوچستان ایمپلائمنٹ آف چلڈرن کے ترمیمی مسودات قانون بھی منظور کیے گئے، جبکہ بلوچستان آبی وسائل کے انتظام و انصرام اور ضابطہ فوجداری 1898 کے ترمیمی مسودات قانون متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں شراب خانوں سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شراب خانے غیر مسلم شہریوں کے لیے ہیں اور یہ قیام پاکستان سے قبل سے قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود شراب نہیں پیتے، تاہم اگر کسی شراب خانے کا نام کسی علاقے کے نام پر رکھا گیا ہے تو اسے تبدیل کرادیں گے۔اجلاس کے آغاز پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کے جوان سال بیٹے، پمز میں جاں بحق ہونے والے بچوں اور سیکیورٹی فورسز کے شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert