وزیروں نے اینکر اور اپوزیشن بننے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، رؤف کلاسرہ کی تنقید

وزیر بن کر گفتگو ایسے کرتے ہیں جیسے اپوزیشن لیڈر یا ٹی وی اینکر یا صحافی ہوں، ان کا دور دور تک حکومت یا اس کی نالائقیوں سے کچھ لینا دینا نہیں، ڈائیلاگ ڈیلیوری پر انہیں آسکر ایوارڈ دینا چاہیئے؛ صحافی کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرہ نے پمز ہسپتال کے حالیہ معاملے پر وفاقی وزیرِ ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک کے بیان اور گفتگو کے انداز پر سخت اور طنز آمیز تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے رؤف کلاسرہ کا کہنا ہے کہ پمز ہسپتال کی ناقص صورتحال اور انتظامی مسائل پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی گفتگو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں بہترین ڈائیلاگ ڈیلیوری پر آسکر ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے، ان کے بیان اور اندازِ گفتگو کو دیکھ کر کہیں سے بھی یہ نہیں لگتا کہ وہ خود اس حکومت کا حصہ ہیں یا یہ تمام تر انتظامی ناکامی اور نالائقی ان کی اپنی حکومت کی ہے۔


سینئر صحافی نے موجودہ حکومتی وزراء کے رویے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء نے اب یہ ایک نیا اور عجیب طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ حکومت اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بھی اس طرح گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ کوئی اپوزیشن لیڈر، ٹی وی اینکر یا صحافی ہوں، وزراء اپنے بیانات میں ایسا تأثر دیتے ہیں جیسے حکومت کی خرابیوں، ناقص کارکردگی اور نالائقیوں سے ان کا دور دور تک کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔

WhatsApp
Get Alert