ڈرائیور لیس گاڑی حادثہ، اسلام آباد پولیس نے طالب علم کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی؟

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ روز ڈرائیور لیس گاڑی کے پولیس موبائل سے ٹکرانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس کی باضابطہ وضاحت سامنے آگئی، پولیس نے نوجوان طالب علم کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے بجائے اس کے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کے کمپیوٹر انجینئرنگ کے طالب علم احسان ظفر عباسی کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے واقعے کی تمام تر تفصیلات واضح کیں۔
ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے ویڈیو بیان میں کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی گئی، جس میں کسی قسم کی بدنیتی یا جرم کا عنصر نہیں پایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی نئی ایجاد کا ٹیسٹ رن کر رہا تھا اور حادثہ محض ایک انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ اور ملک کا روشن مستقبل ہیں، جن کی ہم مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔

طالب علم احسان ظفر عباسی نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 2018 سے انٹرنیٹ سے کنٹرول ہونے والی ڈرائیور لیس کار کے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرویو کے دوران کیمرہ مین کے کہنے پر موبائل دکھاتے ہوئے غلطی سے دائیں کے بجائے بائیں کا بٹن دب گیا، جس کے باعث کمانڈ تبدیل ہوگئی اور گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے سامنے موجود پولیس وین سے جا ٹکرائی۔
احسان ظفر نے معاملے کو سمجھنے، تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور مثبت تعاون فراہم کرنے پر اسلام آباد پولیس اور بالخصوص ایس پی سٹی کا شکریہ ادا کیا۔
طالب علم نے مستقبل میں بھی پاکستان کا نام روشن کرنے کے عزم کا اظہار کیا

WhatsApp
Get Alert