میری بیگم تو جائے نماز پر بیٹھ کر مومنہ اقبال کی شادی کی دعائیں کرتی تھی، ثاقب چدھڑ

اور یہ کہتی ہے وہ اس کی شادی رکوانے کے چکروں میں تھی، ایسا ہوسکتا ہے؟ ن لیگی ایم پی اے کی پوڈ کاسٹ میں گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس میں نامزد مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چڈھر نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیس سے متعلق مزید سنسنی خیز انکشافات کردیئے اور تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کردیا۔ ن لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر نے کہا کہ میرا مقصد ہرگز اداکارہ مومنہ اقبال کی تذلیل کرنا نہیں ہے، میری بیگم تو جائے نماز پر بیٹھ کر دعائیں کرتی تھی کہ مومنہ اقبال کی شادی ہو جائے، اور دوسری طرف یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اس کی شادی رکوانے کے چکروں میں تھی؟ ایسا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟۔


انہوں نے مومنہ اقبال کی بہن رمشاء سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اسے ہمیشہ اپنی سگی بہنوں کی طرح سمجھا اور اس کی ہر ممکن مالی و اخلاقی مدد کی، میں رمشہ کو اپنی بہن مانتا تھا، اسی لیے اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا بھیجا اور وہاں اپنے ایک دوست کی کمپنی میں اسے نوکری بھی دلوائی۔


ثاقب چڈھر نے دعویٰ کیا کہ رمشہ نے آسٹریلیا میں نقد کیش کے لین دین کے دوران ان کے دوست کی چھپ کر ویڈیو بنائی اور بعد میں ان پر ہراسانی کا مقدمہ درج کرا دیا، رمشہ اور اس کے ساتھیوں نے 10 لاکھ آسٹریلین ڈالر کی ڈیمانڈ کی تھی اور آخر کار 1 لاکھ 65 ہزار ڈالر لے کر معاملہ رفع دفع کیا اور وہ یہ رقم لے کر پاکستان واپس آئی، میرے پاس ان معاملات، کیش ٹرانزیکشنز اور بلیک میلنگ کے ثبوت موجود ہیں۔

WhatsApp
Get Alert