باغات کی آڑ میں دہشت گرد حملہ آور ہوتے ہیں، ذاتی پراپرٹی سے فائرنگ پر خاموشی نہیں رہ سکتے: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
باغات کاٹنے سے متعلق میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اطلاع نہ دینے والے کو سہولت کار سمجھتا ہوں: سرفراز بگٹی

خیبرپختونخوا میں پورے اضلاع خالی کروائے گئے، بلوچستان سے ایک گاؤں بھی خالی نہیں کروایا گیا: وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ (قدرت روزنامہ) قائدِ حزبِ اختلاف یونس عزیز زہری نے بلوچستان اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان مستونگ کے باغات کاٹنے سے متعلق اپنے بیان پر واضح مؤقف دیں۔ اس کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ دہشت گردوں نے ہمارے لوگوں کو بے دردی سے شہید کیا ہے، اور جو اہلکار شہید ہو رہے ہیں ان کی فیملیز پر جو گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغات کو کاٹنے سے متعلق ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کسی کی ذاتی پراپرٹی سے فائرنگ ہوگی تو ریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟ باغات کی آڑ میں دہشت گرد آ کر حملہ آور ہوتے ہیں، اور یہ نہیں مانا جا سکتا کہ کسی باغ میں دہشت گرد چھپے ہوں اور مالک کو اس کی خبر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست چاہتی ہے کہ اگر نجی پراپرٹی میں دہشت گرد موجود ہوں تو اس کی اطلاع دی جائے، اور اگر آپ اطلاع نہیں دیتے تو آپ کو دہشت گردوں کا سہولت کار سمجھا جائے گا کیونکہ قانون کے مطابق ہر شہری کو ریاست کا وفادار ہونا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی فورسز گرے ایریا میں آپریٹ کر رہی ہیں اور صوبے میں سول و ملٹری بیلنس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر پورے اضلاع خالی کروائے گئے ہیں جبکہ بلوچستان سے ایک گاؤں بھی خالی نہیں کروایا گیا۔ انہوں نے کڑھ کوچہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایک ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو علاقہ چھوڑنے کے عارضی نوٹسز دیے گئے ہیں اور علاقہ مکینوں کو عارضی ہجرت کا کہا گیا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
