جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی اور سندھ کے نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا: محسن نقوی


لاہور(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور سندھ کے نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ 79سال بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، ہم نے اپنے ملک کے نظام کو دیکھنا ہے اور ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کا اصل مقصد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی مختلف تشریحات کی گئیں، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ حکومت سے جوڑا، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ سیاسی بندوبست سے تعبیر کیا لیکن نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی طرف اشارہ نہیں تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے نظام کا جائزہ لینا ہوگا، ہمارا مقصد حکومت یا کسی سیاسی جماعت کو تبدیل کرنا نہیں، ہمارا مقصد نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے، 79 سال میں بہت سے منصوبے بنے لیکن عوام کو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے، تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی بنیادی سہولیات ہر شہری کو ملنی چاہئیں، نظام میں بہتری اور بہتر ڈیلیوری سے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ ہمیں سب کو ماننا ہوگا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، نظام کو ری سیٹ کرنے کا مقصد کسی چیز کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا ہے، نظام میں ری سیٹ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا ہوگا، نظام میں تبدیلی آئین کے مطابق اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ سیاسی جماعت یا ایک شخص کی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ پاکستان کی عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتی ہے تو انہیں ہر صورت بنایا جانا چاہیے، عوام نئے انتظامی یونٹس نہیں چاہتی تو کسی صورت یہ یونٹس نہیں بننے چاہئیں، نئے انتظامی یونٹس کےحوالے سے آئین میں عوام کو دیا گیا حق تسلیم کرنا ہوگا۔
محسن نقوی نے کہاکہ 80 سال پہلے ایک خاندان ایک گھر میں رہتا تھا لیکن آج خاندان بڑھ چکے ہیں، جب خاندان پھیلتا ہے تو رہنے کے لیے ایک گھر سے دو اور پھر کئی گھر درکار ہوتے ہیں، آبادی اور ضروریات بڑھنے کے ساتھ نظام اور انتظامی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنا ہوگا، اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے پر سب کو اضطراب ہے، اس اضطراب دور کرنا ہوگا، آئین کے دائرے میں رہ کراختیارات نچلی سطح تک منتقل کیےجاسکتے ہیں، کسی بھی صورت غیر قانونی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کو این ایف سی کا حق ملنا چاہیے، اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی میں کوئی حصہ نہیں ملتا، اسلام آباد کا نظام سی ڈی اے اپنی زمینیں فروخت کرکے چلا رہا ہے، اسلام آباد واحد شہر ہے جسے پاکستان کے کسی بجٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں ملتا، کوئی نیا صوبہ بننا ہے تو اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ ملنا چاہیے، اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے مطالبے پر سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے، انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹوں گا، نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، اس معاملے پر سیاستدانوں سے زیادہ عوام کی رائے اہم ہے، عوام کی مرضی کے فیصلے سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، عوام کی منظوری کے بغیر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا کوئی سوال نہیں، کیا ایک بیوروکریٹ سات یا چودہ کروڑ آبادی کے تمام فیصلے کر سکتا ہے؟ ایک شہر میں بیٹھ کر اتنی بڑی آبادی کا پورا نظام چلانا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس نسل یا برادری کی بنیاد پر نہیں، بہتر حکمرانی کے لیے بننے چاہئیں، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی، سندھ کے نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا، انتظامی تقسیم کا مقصد حکومتوں کی تعداد بڑھانا نہیں،حکمرانی کا نظام بہتر بنانا ہے، موجودہ انفراسٹرکچر برقرار رہے گا، صرف اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، پارلیمنٹ اور میڈیا کو بھی نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، انتظامی یونٹس کے نقشے یا پلان پہلے سے طے نہیں ہونے چاہئیں، نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر کسی ایک تجویز پر پہلے سے فکس نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کے مفاد میں جو بھی فیصلہ ہوگا اسے سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert