صوبوں کا قیام قومی مسئلہ ہے، اس میں کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے، خواجہ آصف

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ایک قومی مسئلہ ہے، اس معاملے میں کسی جانب سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انتظامی یونٹس سے متعلق فی الحال ان کے پاس کوئی معلومات نہیں، تاہم اسلام آباد میں ایک آزاد ادارہ قائم کرنا اچھی بات ہوگی، اسے اسمبلی، صوبائی حکومت یا کیپیٹل حکومت کا نام دیا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد میں الگ ادارہ
خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے بہت سے دارالحکومتوں میں اس نوعیت کا انتظام موجود ہے، ان کے علم میں بحیثیت جماعت اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ وزیراعظم نے اس حوالے سے کوئی اجلاس کیا ہے۔
صوبوں کیلئے بھی مثال
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں ایسا انتظام کیا جاتا ہے تو صوبوں کے لیے بھی اسے اختیار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے،انہوں نے افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے چند صوبے تھے لیکن اب صوبوں کی تعداد بڑھا کر 34، 35 کردی گئی ہے،سابق افغان صدر اشرف غنی نے ان سے ملاقات میں بتایا تھا کہ اس اقدام سے عوامی خدمت میں بہتری آئی۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں سرائیکی صوبے کی حمایت، نئے انتظامی یونٹس کی بات پر سندھ کا کارڈ؟ خواجہ آصف نے پی پی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
کسی کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، اس لیے اس کی کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے، انتظامی یونٹس کا قیام وفاق اور صوبوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
صوبےکے بجائے انتظامی یونٹ
وزیر دفاع نے کہا کہ صوبے کا لفظ لوگوں کو شاید کنفیوژن میں مبتلا کرتا ہے، اس لیے انتظامی یونٹ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
سندھ حکومت کا مؤقف
سندھ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مؤقف اختیار کرنے سے متعلق خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ان کا حق ہے، تاہم کسی سیاسی جماعت کے سیاسی مفادات کا تحفظ نہیں کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو ایسا نظامِ حکمرانی اور ڈیلیوری سسٹم فراہم کیا جانا چاہیے جس کے ذریعے انہیں نچلی ترین سطح پر ہی بنیادی سرکاری خدمات میسر آسکیں۔
